کھلا ہے سبھی کے لیے بابِ رحمت وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی

کھلا ہے سبھی کے لیے بابِ رحمت وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی

مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی، قطاریں لگائے کھڑے ہیں سوالی

 

میں پہلے پہل جب مدینے گیا تھا، تو تھی دل کی حالت تڑپ جانے والی

وہ دوبارہ سچ مچ مرے سامنے تھا، ابھی تک تصور تھا جس کا خیالی

 

جو اک ہاتھ سے دل سنبھالے ہوئے تھا، تو تھی دوسرے ہاتھ میں سبز جالی

دعا کے لیے ہاتھ اٹھتے تو کیسے ، نہ یہ ہاتھ خالی نہ وہ ہاتھ خالی

 

جو پوچھا ہے تم نے ، کہ میں نذر کرنے ، کو کیا لے گیا تھا، تو تفصیل سن لو

تھا نعتوں کا اک ہار اشکوں کے موتی، درودوں کا گجرا، سلاموں کی ڈالی

 

دھنی اپنی قسمت کا ہے تو وہی ہے ، دیارِ نبیؐ جس نے آنکھوں سے دیکھا

مقدر ہے سچا مقدر اسی کا، نگاہِ کرم جس پہ آقاؐ نے ڈالی

 

میں اُس آستانِ حرم کا گدا ہوں، جہاں سر جھکاتے ہیں شاہانِ عالم

مجھے تاجداروں سے کم مت سمجھنا، مرا سر ہے شایانِ تاجِ بلالی

 

میں توصیفِ سرکارؐ تو کر رہا ہوں مگر اپنی اوقات سے باخبر ہوں

میں صرف ایک ادنیٰ ثنا خواں ہوں اُن کا ، کہاں میں کہاں نعتِ اقبال و حالی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جس کا قصیدہ خالقِ عرش بریں کہے
خدا کی مرضی کے ترجماں آپ ﷺ
کیامیسر ہے ، میسر جس کو یہ جگنو نہیں
آئینے ہم نے دیکھ لئے صبح وشام کے
زباں پر اے خوشا صل علی یہ کس کا نام آیا
مدینے میں عجب ہی صورتِ جذبات ہوتی ہے
مدحتِ شاہِ مدینہ میں کھلی ہیں آنکھیں
نظر میں ہے درِ خیرالوریٰ بحمداللہ
سرکار سے اُمیدِ نظر لے کے چلا ہوں
نہ تھے ارض وسما پہلے نہ تھے شمس وقمر پہلے