کھلیں گلاب تو آنکھیں کھلیں اچُنگ چلے

کھلیں گلاب تو آنکھیں کھلیں اچُنگ چلے

پون چلے تو مہک اسکے سنگ سنگ چلے

 

ہے میرا سوچ سفر فلسفے کے صحرا میں

ہوا کے دوش پہ جیسے کٹی پتنگ چلے

 

کسی کا ہو کے کوئی کس طرح رہے اپنا

رہِ سلوک پہ جیسے کوئی ملنگ چلے

 

طویل رات ہے ، بھیگی سحر ہے ، ٹھنڈی شام

بڑے ہوں تھوڑے سے دن تو بسنت رنگ چلے

 

وہ دور ہوں تو کٹے ساری رات آنکھوں میں

قریب آئیں تو قلب و نظر میں جنگ چلے

 

چلے ازل سے ابد کے لئے تو رستے ہیں

پڑاؤ دنیا میں ڈالا کہ کچھ درنگ چلے

 

خلا نورد ہیں ایسے بھی جو ستاروں میں

بنا کے تیشۂ فرہاد سے سرنگ چلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
ضبط کے امتحان سے نکلا
بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا
لوگوں کے دُور کر کے غمِ روز گارِ عشق
یاقوت لب کو آنکھ کو تارہ نہ کہہ سکیں
تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے
اس لیے بھی دُعا سلام نہیں
اِک ذرہِ حقیر سے کمتر ہے میری ذات
پا یا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر

اشتہارات