اردوئے معلیٰ

کھویا کھویا ہے دل، ہونٹ چپ، آنکھ نم، ہیں مواجہ پہ ہم

روبرو ان کے لایا ہے ان کا کرم، ہیں مواجہ پہ ہم

 

لمحے لمحے پہ آیات کا نور نعت کا نور ہے

نور افشاں درودی فضا دم بہ دم، ہیں مواجہ پہ ہم

 

ایک کونے میں ہیں، سر جھکائے ہوئے، منہ چھپائے ہوئے

گردنیں ہیں کہ بارِ ندامت سے خم، ہیں مواجہ پہ ہم

 

آنسوؤں کی زباں، کررہی ہے بیاں، ان سے احوال جاں

صرف اپنا نہیں پوری امت کا غم، ہیں مواجہ پہ ہم

 

ہر اندھیرا مقدر کا چھٹنے لگا، دور ہٹنے لگا

قریۂ نور میں آگئے ہیں قدم، ہیں مواجہ پہ ہم

 

مسکراتی ہوئی ہر تجلّی ملی، کیا تسلّی ملی

دور ہوتے گئے سارے رنج و الم، ہیں مواجہ پہ ہم

 

سب طلب گار حرف شفاعت کے ہیں ان کی رحمت کے ہیں

چہرے چہرے پہ ہے اک سوالِ کرم، ہیں مواجہ پہ ہم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات