کہانی بحرین کی

مشاعرہ تو دلِ ناتواں نے خوب کِیا
 
محبت حق نہیں احسان ھوتا ھے۔ یہ ریشم سی ملائم بات سمجھ آجائے تو شب و روز سہل ھوجائیں۔ ھم پڑھنے تو مشاعرہ گئے تھے مگر اھلِ بحرین نے ایسی فراخ دلی اور وسیع القلبی سے ھم پر محبت کے احسانات کیے کہ دھیان کی راھگزاروں پر یادوں کے یہ چمکیلے چمتکاری چراغ رھتی عُمر تک ٹمٹماتے رھیں گے۔ مشاعرہ کیا تھا گویا احسانات کی ایک بھری بھرائی پوٹلی تھی جو سامعینِ مُشاعرہ نے کھولی تو محبتوں کی سوندھی خوشبو اور مدھ بھری مہک نے ھمیں رُوح تک نہال اور مالامال کردیا۔ سخی مسکراھٹیں، دل پزیر داد، تا دیر گونجتی تالیوں اور بعد از مشاعرہ مصاحفوں، معانقوں اور محبتوں کا ایک نہ ختم ھونے والا سوھنا سلسلہ تھا کہ جو نصف شب کے اُس پار تک جاری و ساری رھا۔ سفیرِ پاکستان کی موجودگی اور صدرِ مشاعرہ یعنی آبروئے غزل عباس تابش کی سرکردگی میں روشن کی جانے والی جھلمل جھلمل شمعِ مشاعرہ رات گئے تک آسمانِ ادب کے ستاروں سے ھم کلام رھی۔
 
خالد سجاد اور ریاض شاھد ( پاکستانی اردو سوسائٹی ، حلقۂ ادب، بحرین) کی انتظامی صلاحیتوں، بے پناہ محبتوں اور چاھتوں کے ثبوت جابجا روشن تھے۔ پاکستانی کمیونٹی کے خواتین و حضرات یُوں تھے گویا مشاعرے کے صدیوں سے منتظر ھوں۔ ھر ھر کرم فرمائی پر ھمارے اچنبھے میں اضافہ ھوتا جاتا تھا کہ یا حیرت ! یہ بحرین والے ھم ھی سے مخاطب ھیں ؟ کیونکہ تادمِ تحریر ھمیں اپنی ذاتِ کم صفات میں (باوجود صد تلاشِ بسیار) عظمت تو کیا، عظمت کی عین تک کی جھلک نظر نہیں آئی ! بہرحال ھم نے بحرین والوں کو اس مُہلک مغالطے کا شکار رھنے دیا کیونکہ ھمارا شمار کفرانِ نعمت کرنے والوں میں سے ھرگز نہیں۔ ویسے بھی حد سے زیادہ عاجزی اور کسرِ نفسی بھی سالی خطرناک ھوتی ھے۔ لوگ سچ مان بیٹھتے ھیں
سفرنامے کے چٹخارے اور خوفِ الٰہی و اھلیہ
صاحبو ! خوفِ فسادِ خلق اور خوفِ الٰہی و اھلیہ کے باعث ھر سفرنامے کے بہت سے سخن ھائے گفتنی ناگفتہ ھی رہ جاتے ھیں۔ مگر یار لوگ ٹھہرے سدا کے چٹورے اور چٹخارے باز ! سو ھم گھیر گھار کر، بہلا پُھسلا کر انہیں جتنا مشاعرہ گاہ کے تذکروں کی جانب کھینچتے ھیں، اُتنا ھی ھمارے من چلے دوست ھمیں کُھدیڑ کر کسی مبّینہ خواب گاہ میں چھوڑ آتے ھیں
عقل کے مدرسے سے اُٹھ، عشق کے مَے کدے میں آ
(اور کچھ بے تکلف دوستوں کو تو داستانِ در پردہ کا ایسا لپکا، چسکا اور ھُڑکا ھے کہ خواب گاہ کا دروازہ بند ھوتے ھی اپنی متجسس آنکھ روزن سے لگا کر بیٹھ جاتے ھیں کہ آگے آگے دیکھیے ھوتا ھے کیا
ھم لاکھ سر پٹخیں، جھنجھلائیں، یقین دلوائیں کہ "بھیا ! ھم شریف النفس شاعر ھیں۔ اگر فتوحاتِ شبینہ کی داستانِ پُر لذت کا اتنا ھی اُتاولا شوق ھے تو جاؤ مستنصر حسین تارڑ جی کا دروازہ کھٹکھٹاؤ۔ تسلیم ھے کہ
طلسمِ خوابِ زلیخا و دامِ بردہ فروش
ھزار طرح کے قصے سفر میں ھوتے ھیں
مگر ھر قصہ بیان کرنے کے لیے تھوڑی ھوتا ھے ؟
لیکن کہاں ؟ سُنتا کون ھے ھماری ؟ بس بضد ھیں کہ کچھ تو ھُوا ھوگا۔ ایسے ھی ایک دوست سے کل شام سرِ راہ مُڈبھیڑ ھوگئی۔ چُھوٹتے ھی شریر سی زیرِ لب مسکراھٹ کے ساتھ بولے: "ھو آئے بحرین سے ؟؟؟
محتاط لہجے میں عرض کیا: "جی، ھو آیا
داھنی آنکھ میچ کر بائیں کہنی سے ھماری پسلی میں ٹہوکا دیتے ھوئے بولے: "کیسا رھا پھر ؟
ھم نے جان چھڑوانے کی غرض سے جھٹ کہا: ” یار ! مشاعرہ بے حد شاندار۔ مگر شہر بورنگ ھے
وہ ٹھہرے سدا کے ڈھیٹ، چپکُو اور مستقل مزاج۔ پھٹ پڑے: "ابے ! مشاعرے کی ایسی کی تیسی۔ شہر کی سُنا، شہر کی ! مَیں نے تو سُنا ھے کہ خلیج کے تمام شاھزادے شاھزادیاں، جو ڈھائی تین لاکھ سے کیا کم ھوں گے، جمعہ کے جمعہ اپنی امارت، طہارت اور طبیعت کا بوجھ ھلکا کرنے بحرین سے ھو آتے ھیں ! دیکھ یار فارس ! یاروں سے جھوٹ نہ بول
اب آپ ھی بتائیے کہ ان صاحب کو کوئی کیسے سمجھائے کہ براہِ کرم ھم جیسے متوسط آمدنی کے سرکاری ملازم کو شاھزادوں شاھزادیوں کی لذت آور شاھانہ بریکٹ میں نتھی نہ کریں
دَرَم و دام اپنے پاس کہاں
چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں
ھم تو جیسے بحرین گئے ویسے ھی واپس آگئے۔ بلکہ صاحب ! ایک بحرین ھی پر کیا موقوف، ھم تو بہتیری جگہوں سے جُوں کے تُوں لوٹ چکے ھیں
کعبے گیا، مدینے گیا، کربلا گیا
جیسا گیا تھا ویسا ھی چل پِھر کے آگیا
لاھور ائیرپورٹ – پورٹر، پروٹوکول اور فرحت زاھد
مشاعرے سے دن بھر قبل ھم لاھور سے رخصت ھوئے تو لیلائےسول سروس کی مہربانی سے ائیر پورٹ پر قدم رنجہ فرماتے ھی کسٹم والوں کا پروٹوکول دیدۂ و دل فرشِ ائیرپورٹ کیے بیٹھا تھا۔ لہٰذا ھم اپنا سازو سامان اور رختِ سفر اُنہی میں سے ایک کے سپرد کرکے سُبک دوش ھوگئے کہ
سپُردم بتو مایۂ خویش را
تُو دانی حسابِ کم و بیش را
اُدھر ھی ایک چھریرے بدن کا ان دُھلا لونڈا جسے ھم نے ابتدا میں پورٹر سمجھ کر لفٹ نہیں کرائی، پروٹوکول افسر نکلا۔ اور خدمت پر مُصر: "سر ! چائے لا دُوں ؟ سر ! کولڈ ڈرنک پلاؤں ؟” مگر ھم بھی ادائے بے نیازی مگر مربیانہ مسکراھٹ کے ساتھ فرماتے رھے کہ نہیں بھئی، فی الحال نہیں۔ تِس پر وہ باوردی خدائی خدمت گار کچھ عرصے کے لیے غائب ھوگیا مگر چند ھی لمحوں میں الہٰ دین کے چراغ والے جن کے مانند بارِ دگر آدھمکا: "سر ! کافی تو یقیناً چلے گی ھی، ھے نا ؟
اُس سے نپٹ کر لاؤنج میں یہاں وھاں نگاہ دوڑائی تو اُدھر چند گز پرے لذیذ ست رنگی لاھوری شیرینیوں کی دُکان تھی جس کے سامنے وسیع و عریض دیوار پر پیتل، تانبے اور کھنکتی ھوئی چکنی مٹی سے بنا پرانے لاھور کی عمارتوں کا سہ جہتی ماڈل دعوتِ نظارہ دیتا تھا۔ نہایت باریک اور نازک جھروکے در جھروکے، مہین مُنقّش جالیاں، چقیں، چھن چھن روشنی بہاتی چلمنیں، چھتوں سے بغل گیر چھتیں اور اُن کی آدھی ادھوری اوٹ سے جھانکتے گُنبد و مینار، کہیں عیاں کہیں پوشیدہ زینے، اُردو غزل کے محبوب کی کمر کے مانند پتلے تنگ گلی کوچے۔ پُرانا لاھور نئے ائیرپورٹ کو رونق بخش رھا تھا۔
ذرا سا دُور "سگریٹ پینا منع ھے” کے واضح سائن کے عین نیچے نیم دراز ایک نیم گنجا اُدھیڑ عُمر شخص کہ توند جس کی اپنی مثال آپ تھی اپنے منہ اور نتھنوں سے بھک بھک سگریٹ کا دُھواں چھوڑ رھا تھا اور ھر کش کے بعد راکھ کو شاھانہ انداز سے فرش پر چھڑک کر اِدھر اُدھر داد طلب نگاھوں سے تکتا تھا کہ "ھے کوئی ؟ جو مجھ سورما کو دادِ شجاعت دے ؟”۔
آس پاس اپنی فلائٹ کی منتظر مسافر براجمان تھے، کچھ اپنوں سے بچھڑنے کا ملال خدوخال پر ملے ھوئے، کچھ اپنوں سے جاملنے کی آس آنکھوں میں دھکائے۔ سوچتا ھوں ائیرپورٹ ھو یا بندرگاہ، شہر چھوڑنا بعض مسافروں کے لیے امید افزا ھوتا ھے،بعضوں کے لیے اذیت ناک۔ یہی دُنیا ھے، عزیزو
اِدھر ھم نے گرما گرم بھاپ کے مرغولے اُڑاتی کافی کی آٹھویں نویں لذیذ چُسکی لی ھوگی کہ گز دو گز کے فاصلے پر ایک طرح دار خاتون کو دیکھ کر ھمیں گمان سا گذرا کہ یہ تو فرحت زاھد لگتی ھیں۔ قدرے پاس جاکر آواز دی تو فرحت زاھد ھی نکلیں۔ کمال کی شاعرہ اور بحرین مشاعرے کی ھماری ھم سفر۔ مصرعے میں دایاں دکھا کر بایاں مارتی ھیں۔ مشاعرے میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتی ھیں اور پڑھ پڑھ کر ٹھہرتی ھیں۔ ھر دو وقفوں میں داد کے غلغلوں پر سر جھکائے کھڑی رھتی ھیں۔ خیر دوبارہ سے چائے پی اور پلائی۔
عمان ائیر ویز – لجلجے خدوخال والی ائیرھوسٹس سے اونٹنی کے خالص دودھ کی چاکلیٹ تک
جہاز میں سوار ھوتے ھی نظر پڑنے والی پہلی فضائی میزبان کے لجلجے خدوخال دیکھ کر خیال آیا کہ اس سے تو ائیرپورٹ کی انتظار گاہ ھی صد ھزار بار بہتر تھی۔ کم از کم رونق تو ڈھنگ کی تھی۔ محترمہ چہرے پر دو ڈھائی انچ غازے اور اتنی ھی کسمپرسی کی تہہ جمائے مُفلس کی مونچھ کے مانند لٹکی کھڑی تھیں۔ شاید انہی کو دیکھ کر غالب نے اپنی عدیم الفرصتی اور ضعیفی کا بہانہ بنایا تھا
فرصتِ کاروبارِ شوق کسے
ذوقِ نظارۂ جمال کہاں
عمان ائیر لائن کے ذوقِ انتخاب پر حیران و پریشان ھم فرحت کے ھمراہ کشاں کشاں اپنی سیٹ پر پہنچےاور اگلے دو ڈھائی گھنٹوں میں بیس پچیس ھزار فیٹ کی بلندی پر غیر حاضر شعرا و شاعرات کی (معلق) غیبت سے باجماعت شادکام ھوئے۔
دورانِ غیبت بائیں ھاتھ کی سیٹ پر ایک تھن متھنا سا، گُپلو سا بچہ نظر پڑا جو ماں کی گود میں تو دھاڑیں مار کر روتا تھا مگر ایک خوبصورت ائیر ھوسٹس کی گود میں جاتے ھی خوب کلکاریاں مار کرھنسنے لگتا تھا۔ اُس دشمنِ ایمان و آگہی کی آغوش میں جاتے ھی یہ متجسس اور سیماب صفت بچہ اُن پُراسرار نشیب و فراز میں جھانکنے لگتا تھا جہاں جھانکنے کی خواھش تو برحق ھے مگر اُس کو دبانے کی حتی المقدور کوشش بھی لازم ھے۔
 
اسی آنکھ مچولی کے دوران ھم عمان پہنچے تو چونتیس ڈگری کی گرمی کو منتظر پایا۔ خیر ھم تو چھتیس کی گرمیاں بھی سہہ چُکے ھیں لہٰذا کچھ خاص دھچکا نہیں لگا۔ ائیرپورٹ کی عمارت میں وارد ھوتے ھی ھماری پہلی نظر اونٹنی کے خالص دودھ سے بنی ھوئی چاکلیٹ پر پڑی۔ فرحت زاھد نے خَبَرِ تحیر سنائی کہ اِن دنوں اُدھر ھمارے لاھور میں بھی سڑکوں پر اونٹوں والے خانہ بدوش صحرائی ڈاچیوں کا گاڑھا دودھ بیچتے ھیں جبکہ اِنہی خانہ بدوشوں کے گہرے سانولے اھلِ خانہ شہر کے گلی کوچوں میں ڈگڈگی یا گڑوی بجاتے اور صحرائی سُروں سے زندہ دلانِ لاھور کو گرماتے پھرتے ھیں۔ مزید انکشاف کیا کہ اونٹ – معاف کیجے گا – اونٹنی کا دودھ نہایت مُفید، مقوی، مفرح اور میٹھا ھوتا ھے۔ اپنے قرشی جوھر جوشاندہ والے حکیم اجمل ھوتے تو اونٹنی کے گرم دودھ کے ایسے ھوشرُبا طِبّی فوائد بیان فرماتے کہ یُونانیوں تک کا من للچا اُٹھتا اور نیّت ڈگمگا کر ڈانواڈول ھوجاتی۔ خیر، ابھی ھم تناول ما حضر (یعنی شیش طاؤق،آموں والی لسی اور فلافل) کی نیّت باندھ رھے تھے کہ ھمارے رنگارنگ سفرنامے میں شاعرِ خوش پوش یعنی قمر ریاض کی انٹری ھوئی ۔ قمر مسقط میں ھوتے ھیں اور خوب ھوتے ھیں ! جُملے باز بھی ھیں، ھنس مُکھ بھی۔ شعر بہت چُست کہتے ھیں اور بڑے ڈھنگ سے پڑھتے ھیں۔ اتنی کچی سی عُمر ھی میں مشرقِ وُسطٰی میں اپنا لوھا نہ صرف منوا چُکے ھیں بلکہ بعضے بعض نیم شاعروں کے سر پر برسا بھی چُکے ھیں۔ ان کا منفرد کمال یہ ھے کہ چلتے تو ناک کی سیدھ میں ھیں مگر مجال ھے کہ دائیں بائیں محوِ خرام کسی اچھے چہرے کو مِس کر جائیں ۔(بھابھی یہ جملے پڑھ رھی ھوں تو یقین کیجے ھم مذاق کررھے ھیں، نہیں پڑھ رھیں تو یقیناً یہ حقیقت ھے !) قمر کمال محبت سے ھمیں وی آئی پی لاؤنج لے گئے اور سیلفیوں بھرا ناشتہ کروایا۔ "ھاٹ ڈاگس” پر نظر پڑتے ھی ایک آنکھ دبا کر کہنے لگے: "انہیں ٹھنڈا کرکے بھی کھایا جاسکتا ھے”
یونہی ھنستے ھنساتے ایک درویش اور ایک درویشنی کے اس قافلے میں ایک عدد درویش کا اضافہ ھوگیا۔ اگلی پرواز ھمیں اُڑا کر جزیرۂ بحرین لے جانے والی تھی۔ اگرچہ ائیرلائن تو وھی پُرانی تھی مگر اب کی بار میزبانانِ فضائی کافی تیکھے سازوسامان سے لیس تھیں۔ مگر یہاں بھی لبِ بام فقط دوچار ھاتھ ھی رہ گیا تھا کہ خوبئ قسمت سے کمند ٹوٹ گئی۔ مطلب یہ کہ بزنس کلاس اور اکانومی کلاس میں تقسیمِ حُسن کرتے ھوئے اربابِ طیارہ نے ھم اکانومی والوں کے ساتھ صریحاً ظلم اور دو نمبری کی تھی۔ ایک بار تو جی میں آیا کہ انہی میں سے ایک کافرہ کی لپ اسٹک مستعار لے کر اُدھر در و دیوارِ طیارہ پر ھی جلی سُرخ حروف میں لکھ ماریں کہ
اچھے عیسٰی ھو، مریضوں کا خیال اچھا ھے
وہ الگ باندھ کے رکھا ھے جو مال اچھا ھے
اور صاحبو ! باندھ کر بھی کہاں رکھا تھا۔ طیارے کے طول و عرض میں جمالِ یار چُھٹا پھر رھا تھا۔ ھاں یہ الگ بات ھے کہ بزنس اور اکانومی کی حدِ فاصل پار کرتے ھوئے جمالِ یار کو موت پڑتی تھی
ویلکم ٹُو بحرین : خالدسجاد بمقابلہ محشر آفریدی
گھنٹے بھر کی اُڑان بھرنے کے بعد بحرین پہنچے تو اور ھی ھمھمے، اور ھی ولولے تھے ! ائیرپورٹ کے دروازے پر ھی سلیمان جاذب آ ملے۔ مروّتی محبتی دوست ھیں یہ۔ یہ الگ بات کہ انہوں نے حسینان و ماہ جبینانِ بالی وُوڈ کے پہلو میں لی گئی تصویریں ارسال کرکر کے ھمیں جلانے کا تاعُمر ٹھیکہ لے رکھا ھے۔ غضب خُدا کا ! آج قطرینہ کی قُربت میں قرینے سے باچھیں کھلائے کھڑے ھیں تو کل ایشوریا کے سانوریا بنے دادِ عیش دے رھے ھیں ! کنگنا نراوت کے کنگنوں سے لے کر کرینہ کی کرن کرن مسکراھٹ تک اور دیپیکا کی دیپ جیسی آنکھوں سے لے کر چھالیہ جیسی عالیہ بھٹ تک، سلیمان جاذب ایسے کدکڑے بھرتے پھرتے ھیں کہ دشمن انگشت بدنداں اور یار لوگ سر بگریباں رہ جاتے ھیں۔ وھیں کھڑے کھڑے اقبال طارق سے بھی ملاقات ھوئی جو باکمال شاعر اور دوست ھیں۔ دُور سے نوجوانِ نستعلیق تابش زیدی آ نکلے۔ یہ حضرت سیاہ شیروانی اور علی گڑھ کٹ کا کرتا پاجامہ زیبِ تن کیے دھیرے سُروں میں مشاعرہ پڑھتے ھیں تو کراؤڈ پاگل ھوجاتا ھے۔ ریاض شاھد ھم سب کو اپنی گاڑی میں ڈھو کر رھائش گاہ تک لے گئے جہاں ایک سہانا سرپرائز ھمارا منتظر تھا۔ خالد سجاد نے شعرائے کرام و شاعرہ کو خاموش و اُداس ھوٹلوں میں بھرنے کی بجائے دو کشادہ، ھوادار اور بہترین اپارٹمنٹس میں ٹھہرانے کا اھتمام کررکھا تھا۔ ” بِگ باس” تو آپ سب نے یقیناً دیکھ رکھا ھوگا جس میں سب شرکائے مقابلہ کیمروں سے بھرے ایک ھی گھر میں قیام پذیر ھوتے ھیں۔ یہاں فرق صرف اتنا تھا کہ نہ تو کسی مقابلے کا جھنجھٹ تھا نہ کیمروں کا ٹنٹنا۔ مگر ماحول "بگ باس” والا ھی تھا۔ وھیں پہلی بار محشر آفریدی سے ملاقات ھوئی۔ خاصے کی شَے ھیں۔ اس دورے کی دریافت کہا جائے تو بے جا نہ ھوگا۔ منحنی سے ھیں مگر جوش و خروش سے گلے ملے۔ کوئی گلے نہ بھی ملے تو محض جوشِ خطابت کے زور پر ھی اُس کے گلے پڑ جاتے ھیں۔ خالد سجاد البتہ منتظم بھی تھے اور مرکزِ توجہ بھی۔ خالد کا چمکیلا چمتکار یہ ھے کہ لفظوں سے کبھی پھول پھلواری بناتے ھیں کبھی پھلجڑیاں چھوڑتے ھیں۔ اُن کے تیکھے تیروں اور نوکیلے نشتر کا رُخ اکثر و بیشتر محشر آفریدی کی جانب رھتا ھے۔مشاعرہ گاہ کہتے ھوئے "گاہ” کی گاف پر یوں زور دیتے ھیں گویا گالی عطا کررھے ھوں۔ مرزا نوشہ تو کششِ کاف کرم پر مر مٹے تھے، یہ حضرت کاف پر گاف کو ترجیح دیتے ھیں۔
 
صاحبو ! موازنۂ خالد و محشر نہ ھمارا مقصد ھے نہ ارادہ۔ ھاں ان دو احباب کی نوک جھونک سے کئی شُرفا نے بھی لُطف اُٹھایا جن میں اقبال طارق اور سہیل ثاقب بھی شامل ھیں۔ دونوں پختہ کار شاعر اور دلفریب انسان۔ تابش صاحب کی موجودگی نے محفل کو چار چاند لگائے رکھے۔ سخن کی باریکیوں پر سیرحاصل گفتگو ھو یا شعر کے شجرے پر بحث، عباس تابش کا عصرِ حاضر میں ثانی ناپید ھے۔
سنجیدہ قیل و قال کے بعد منہ کا ذائقہ بدلنے اور دل پشوری کرنے کے واسطے غیر سنسر شُدہ لطائف و کثائف کی محفلِ ھاؤ ھُو جمتی تھی تو یار لوگ ھنس ھنس کے دوھرے تہرے ھو ھو جاتے تھے۔ خالد کے پاس لطائف کا خزانہ ھے تو محشر دُنیا بھر کے موھنے اشعار حافظے کی پوٹلی میں لپیٹے پھرتے ھیں۔ مدھیہ پرویش کے شاعر کمال احمد پرواز کا ایک شعر سُنیے جو ھم تک محشر کی زبانِ شیریں بیان سے پہنچا:
روشن ھے آدھی رات وہ پُورے بدن کے ساتھ
سو جاؤں ؟؟ اُس چراغ کی عزت نہیں کروں ؟؟
بٹ صرف کھانے کے نہیں، کھلانے کے بھی شوقین ھوتے ھیں
اگلے دن پاکستان کمیونٹی کے ایک سرکردہ رکن اشفاق بٹ صاحب نے شعرائے کرام اور اکلوتی شاعرہ (یعنی فرحت زاھد) کو چائے پر بُلا رکھا تھا۔ اس دعوت کو محض چائے کہنا تو صریحاً ظلم ھوگا۔ تیز مرچوں کے لذیذ دھی بڑے، کڑاھی سے سیدھے اُترتے گرماگرم خستہ سموسے، چٹ پٹی فروٹ چاٹ، رسیلی رس بھری رس ملائی اور آخر میں کَھولتی ھوئی گرم چائے کے ساتھ نہایت باریک پیسی کُوٹی ھوئی الائچیاں اور سونف سپاری۔ اندازہ ھُوا کہ بٹ کھانے کے ھی نہیں کھلانے کے بھی شوقین ھوتے ھیں۔ اھلاً و سھلاً کی تصویر بنے میزبانوں کا گھر کسی نوبیاھتا دُلہن کے مانند سلیقے قرینے سے سجا ھوا تھا۔ محشر آفریدی نے رس ملائی گہرے پیندے کی پیالیوں کے بجائے اُتھلی سی پلیٹ میں انڈیل لی اور پھر چمک کر بولے: "ابے یار ! صحیح چیز غلط پلیٹ میں ڈال لی”۔ اور پھر پلک چھپکنے میں ایک ھی ھلّے میں کھا پی گئے۔ ایک معزز نظر آنے والے صاحب محشر کو مخاطب کرکے کہنے لگے: رات آپکے شعر سُن کر ھم ھنس ھنس کے لوٹ پوٹ ھوتے رھے”۔ محشر جھٹ سے بولے: "ابے ! میں کیا کوئی لطیفے سنا رھا تھا ؟
 
پُورن ماشی کی رات، خالد سجاد کی کتاب کی منہ دکھائی اور پاکستان کلب میں مشاعرہ
پاکستان کلب میں ھونے والے مشاعرے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا لہٰذا محبتی میزبانوں کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرکے میں، فرحت، محشر اور سہیل ثاقب شاپنگ کے لیے پتلی گلی سے سٹک لیے۔ پُورن ماشی کی رات تھی۔ دودھیا چاندنی میں دُھلا دُھلایا بحرین بلوریں شفاف کانچ کے دریا کے مانند دم بدم دمک رھا تھا۔ ھمیں راھگیروں کو دیکھ کر لگا کہ خلیج کے لوگوں کے دلوں میں خلیجیں ھرگز نہیں ھیں۔ باھر کے مناظر کے ساتھ گاڑی میں محشر نے اپنے موبائل فون کی پُراسرار پٹاری سے کچھ گُم شُدہ زمانوں کے گیت نکالے۔ لتا جی لطافت کی انتہا پر نغمہ سرا تھیں
 
دل ھُم ھُم کرے، گھبرائے
گھن دھم دھم کرے، گرجائے
اک بوند کبھی پانی کی
مری اکھیوں سے برسائے
بھوپن ھزاری کی ترتیب دی گئی دُھن اور گلزار کی شاھکار فلم رُودالی کا یہ گیت ھمیں کسی اور ھی جہان میں لے گیا۔
لشتم پشتم شاپنگ سے عہدہ برآ ھوئے۔ فرمائشوں کی فہرستوں اور جیب میں پڑے درھم و دینار میں کڑا مقابلہ ھُوا۔ مگر عزیزو ! فرمائشیں پوری نہ کرنے کا ھم میں نہ حوصلہ ھے نہ دماغ۔ بقول عباس تابش
معافی چاھتا ھوں صاحبانِ دشت و دل
تمہیں پتہ ھے مجھے گھر بھی جانا پڑتا ھے
شاپنگ پلازا کو خیر آباد کہہ کر بھاگم بھاگ پاکستان کلب پہنچے جہاں خالد سجاد کے شعری مجموعے "مجھ میں دریا بہتا ھے” کی منہ دکھائی اور مشاعرہ تھا۔ بارِ دگر بحرینیوں کی محبتوں سے شاد کام اور شاداب ھوئے۔ محشر کو شعر پڑھتے ھوئے لگا کہ شاید سامعین کی توجہ کماحقہ حاصل نہیں ھے تو پُراسرار انداز میں کہنے لگے: "رضیہ کا غنڈوں میں پھنسنا تو سُنا تھا، آج (اپنی طرف اشارہ کرکے) غنڈہ رضیاؤں میں پھنس گیا ھے”۔
مشاعرے ھی میں مجتبیٰ افروز برلاس سے ملاقاتِ اولیں ھوئی۔ مجتبٰی دبنگ لہجے کے شاعر اور ھمارے دیرینہ کرم فرما بزرگ مرتضیٰ برلاس کے بھتیجے ھیں۔ "الثقافہ” کے نام سے نہایت معتبر اور فعال ادارہ چلاتے ھیں ۔ ان کے زیرِ اھتمام بحرین میں بیسیوں کامیاب فنکشن ھو کے ھیں۔ وھیں وسیم بھائی سے ملاقات ھوئی جو بےحد پیارے دوست ھیں۔ ھمیں لیے لیے پھرے۔ بحرین اور سعودی عرب کے درمیان سمندر پر بنا وہ پُل بھی دکھایا جس سے دونوں اطراف کے شاھزادے شاھزادیاں اِس پار سے اُس پار اور اُس پار سے اِس پار جمعے کے جمعے آتے جاتے ھیں۔ ایک جیسے عزائم کے ساتھ
 
مشاعرے کے بعد "مطعم ذائقہ عالمی” سے روایتی ایشیائی کھانے کھائے۔ قدیم بحرینی باشندوں کو "باحرانی” کہا جاتا ھے جو بحرینی اور ایرانی کو مجتمع کرکے بنا ھے۔اُن کے کھانے بھی لذتوں کی جنتِ بے نظیر ھیں۔ ھُمّس چنوں کو پیس کر بنایا جانے والا لذیذ پیسٹ ھے۔ ھریسہ بحرین میں بھی ھوتا ھے جسے ھم جیسے حریص چٹ کر جاتے ھیں۔ "قوزی” بھُنا ھُوا سالم بکرا ھوتا ھے جس کے پیٹ میں ڈھیر سارے مقویات، خوب گلے ھوئے چاول اور تیز مصالحہ جات بھرتے ھیں۔ تمیز نامی روٹی بھی ھوتی ھے جسے بے حد تمیز سے کھانے کی شرط ھے۔ بحرینی کھانے پینے کے شوقین ھیں۔ ویسے عجیب لوگ ھیں، پانی کیلئے کنواں کھودتے ھیں، تیل نکل آتا ھے تو ایک دوسرے کے سر تھم کر بیٹھ جاتے ھیں کہ لو، پھرتیل نکل آیا۔
ترا سامان میرا ھے، مرا سامان تیرا ھے
 
ھمارے قیام کے آخری دن ایک مزے کا واقعہ ھُوا۔ سٹاف کی معصوم سی غلطی سے ھم سب کا سامان گڈمڈ ھوگیا۔ عجیب آپا دھاپی، اُتھل پتھل اور ڈھنڈیا پڑی۔ شور مچا۔ کسی کا سامان کسی کے بیگ میں، کسی کا رختِ سفر کسی کی پوٹلی میں ! کمال بے ھنگم کنفیوژن مچی۔ حضرتِ سہیل ثاقب فرام سعودیہ کے موزے تابش زیدی کے بیگ میں۔ عجیب گھپلا تھا۔ قمر ریاض کی ایک عدد بیاض اور دو عدد بنیانیں سلیمان جاذب کے ھاں جا پہنچیں۔ اور تو اور محشر آفریدی کے داڑھی مونچھ مونڈنے کا جملہ ساز و سامان اور آلاتِ حجامت (بشمول آدھی کنگھی اور ڈابر آملہ ھئیر آئل) محترمہ فرحت زاھد کے بیگ میں جا پہنچا۔ محشر کا پاسپورٹ اُن کی واسکٹ کی جیب میں تھا اور واسکٹ ندارد۔ اور کہیں ڈھونڈے سے نہ مل پا رھی تھی۔ چند لمحے تو محشر ٹینشن دبائے، سر نیہوڑائے ادھر اُدھر ھاتھ پاؤں مارا کیے مگر کچھ دیر بعد پھٹ پڑے اور تمام اربابِ ھوٹل اور اُن کے باوردی سٹاف کی شان میں بزبانِ اُردُو ایک ستر کُشا قصیدہ پڑھا کہ جس کی پاکیزگی اور طہارت کی تاب ھماری یہ گنہگار تحریر نہ لاپائے گی۔لہٰذا اُس قصیدے کے الفاظ یہاں کاپی کرنے سے ھمیں معذور و قاصرسمجھیے۔ ھاں ھمارے جن بےصبرے اور متجسس قارئین کو دلچسپی ھے وہ محشر کو فون کرکے بگوشِ خود وہ قصیدہ سماعت فرما سکتے ھیں۔ محشر کی گالیوں میں بھی ایک عجب ادبی چاشنی ھے کہ شین قاف سے درست، مخرج ، اصول و ضوابط، ردیف قافیے کی پابند اور تلفظ کی غلطیوں سے ماورا ھوتی ھیں۔ اوپر سے دورانِ ادائیگی محشر اپنے منحنی سے سراپا سے معنی خیز اشارے بھی کیا کرتے ھیں۔ آنکھوں کے آگے گالی کی متحرک تصویر سی دوڑنے لگتی ھے۔ایک دو احباب نے تو باقاعدہ فرمائش کرکے گز گز بھر لمبی گالیاں سُنیں اور سر دُھنا۔
داد ملی سو لاکھوں پائے — لوٹ کے بُدھو گھر کو آئے
 
صاحبو ! مشاعروں میں محبتیں سمیٹنے، سنہری کونجوں جیسے دن اور خاموش ساحلوں پر طویل مدھم مگھم سرگوشیوں جیسی راتیں گذارنے کے بعد لمحۂ رخصت کٹھن تھا۔ آتے آتے ھم آنکھ کی اوک میں کتنی ھی یادیں بھرلائے کہ محبتوں کی سند رھیں اور بوقتِ ضرورت کام آئیں ۔ اب شریر گلہریوں جیسی یہ یادیں عرصۂ دراز تک ھمارے دل کے ساتھ چُھپن چھپائ کھلیتی رھیں گی۔ میزبانوں، دوست احباب اور جزیرۂ بحرین کی چمپئی دھوپ کا شکریہ کہ ھمیں اتنے دن برداشت کیا۔
 
پلٹ ھی آئے غریب الوطن، پلٹنا تھا
وہ کوچہ رُوکشِ جنت ھو، گھر ھے گھر پھر بھی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ