اردوئے معلیٰ

کہانی ختم ھوگی ؟ یا تماشا ھونے والا ھے ؟

کہانی ختم ھوگی ؟ یا تماشا ھونے والا ھے ؟

کسے معلُوم ھے فارس یہاں کیا ھونے والا ھے

 

پرندے، چیونٹیاں اور لوگ ھجرت کرتے جاتے ھیں

ھمارے شہر میں کیا حشر برپا ھونے والا ھے ؟

 

ذخیرہ کرلو آنسُو اپنی آنکھوں کے کٹوروں میں

یہاں اب پانی مہنگا، خُون سستا ھونے والا ھے

 

تو کیا ھم لوگ پھر سے دھوکا نامی تیر کھائیں گے ؟

تو کیا زخمِ ندامت اور گہرا ھونے والا ھے ؟

 

ترازُو سج چُکے ھیں اور بولی لگنے والی ھے

تو کیا پھر سے مِرے خوابوں کا سودا ھونے والا ھے ؟

 

تو کیا اب فاختائیں اور ھرن پیاسے ھی مر جائیں ؟

تو کیا اب جھیل پر سانپوں کا قبضہ ھونے والا ھے ؟

 

کبھی تشویش کہتی ھے اندھیرا اب نہ جائے گا

کبھی اُمّید کہتی ھے اُجالا ھونے والا ھے

 

اُدھر طَے ھے کہ مرگِ ناگہانی لازمی ٹھہری

اِدھر ضد ھے: نہیں بیمار اچھا ھونے والا ھے

 

وھی کارِ بغاوت جو کہ سینوں میں ھے پوشیدہ

ابھی تک ھو نہیں پایا لہٰذا ھونے والا ھے

 

ریاست کی نہیں یہ آپ کی اپنی ھی میّت ھے

ابھی کچھ دیر تو بیٹھیں، جنازہ ھونے والا ھے

 

کہیں شر بھاگا پھرتا ھے، کہیں مصرُوف ھے سازش

تو کیا شیطان کے ھاں پھر سے بچّہ ھونے والا ھے ؟

 

جسے تُم نے ھمیشہ رینگتے دیکھا، میاں فارس

وہ اب اُونچی فضاؤں کا پرندہ ھونے والا ھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ