اردوئے معلیٰ

Search

کہاں سے لاتا ادائیں وہ لڑکیوں جیسی

سو آئینے میں بھی حیرت ہے پتلیوں جیسی

 

ہمارے بیچ اٹھائی ہے وقت نے دیوار

میں جگنوں کی طرح ہوں ، وہ تتلیوں جیسی

 

اور اس کے بعد کا موسم بیان سے باہر ہے

میں دھوپ سرد دنوں کی، وہ کھڑکیوں جیسی

 

ہوا بھی چلتی ہوئی اورچراغ جلتا ہوا

وہ بولتی ہوئی ،آواز تلخیوں جیسی

 

وہ لڑکی میری گلی سے گزر رہی ہے زبیر

مہک سی آنے لگی ہے چنبیلیوں جیسی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ