اردوئے معلیٰ

کہاں میرے نبی کا کوئی ہمسر کوئی ثانی ہے

جدھر دیکھو بساطِ کن میں انکی وصف خوانی ہے

 

یہ بالکل صاف مفہوم حدیث من راٰنی ہے

سراپا آپ کا رب کی بڑی محکم نشانی ہے

 

بہت مسرور تھا مہتاب اپنی ضوفشانی پر

ترے تلووں کے آگے میرے آقا پانی پانی ہے

 

تحیر میں خرد ہے عقل و دانش ششدر و حیراں

سنا جب سے مکاں والا بھی کوئی لامکانی ہے

 

مرے سرکار کی ہے سلطنت سارے زمانے میں

مرے سرکار کی ہر ایک شے پر حکمرانی ہے

 

ابلتے ہیں معارف کے سمندر انکے لفظوں سے

کلام مصطفیٰ کا نام ہی کنزالمعانی ہے

 

جہاں کیا چیز ہے میں نے اگر سمجھا تو یہ سمجھا

خدا کا باغ ہے میرے نبی کی باغبانی ہے

 

بنایا امتی ان کا ، لقب خیر الامم بخشا

مرے اللہ کی کتنی بڑی یہ مہربانی ہے

 

وہ اصل کل، وہ جان دو جہاں، وہ ہادئ عالم

انھیں پر منحصر سارے زمانے کی کہانی ہے

 

نہ جانے کس بلندی پر ہے تو اے گنبد خضریٰ

تری رفعت پہ حیرت میں فراز آسمانی ہے

 

مٹا دے نورؔ جو انکی وفا میں اپنی ہستی کو

مقدر میں اسی کے بس حیات جاودانی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات