کہتے ہیں سبھی دیکھ کے دربار تمہارا

کہتے ہیں سبھی دیکھ کے دربار تمہارا

کتنا ہے حسیں روضہ اے سرکار تمہارا

 

حاصل ہو اگر اذنِ حضوری کا مجھے بھی

دیکھوں گا شہا گنبد و مینار تمہارا

 

آتے ہیں ملک کرنے کو جس در کی غلامی

اے رحمت عالم وہ ہے دربار تمہارا

 

سوتا ہوں لئے دل میں تمنائے زیارت

ہوجائے کبھی خواب میں دیدار تمہارا

 

واللیل جو زلفیں ہیں تو مازاغ نگاہیں

پرنور سراپا ہے اے سرکار تمہارا

 

ہے فاطمہؓ کا واسطہ، تجھ کو نبی مرے

رمضان بھی یوں دیکھ لے دربار تمہارا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نظر نظر کی محبت ادا ادا تھی شفیق
سعادت یہ خیر اُلبشرؐ دیجئے
اے ختمِ رُسل اے شاہِ زمن اے پاک نبی رحمت والے
میں لاکھ برا ٹھہرا، یہ میری حقیقت ہے
تیرا کہنا مان لیں گے اے دلِ دیوانہ ہم​
دار و مدارِ حاضری تیری رضا سے ہے
معجزہ ہے آیہء والنجم کی تفسیر کا ​
قوسِ قزح میں لفظ بنوں نعت میں کہوں
سلام علیک اے نبی مکرم
جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

اشتہارات