اردوئے معلیٰ

کہکشاؤں کے سحر زیرِ قدم رہتے ہیں

زاویے فکر کے جب سوئے حرم رہتے ہیں

 

شہرِ خوشبو میں ہو دھڑکن پہ ادب کا پہرہ

سانس آہستہ، یہاں میرِ امم رہتے ہیں

 

ان کے دربار سے لوٹے ہیں تو حالت یہ ہے

ہجر کی گود میں با دیدۂ نم رہتے ہیں

 

طائرِ فکر کا محور ہے فضائے مدحت

خدمتِ نعت میں قرطاس و قلم رہتے ہیں

 

جلوۂ شاہِ دو عالم سے مہکتا ہے ارم

بہرِ دیدار، طلب گارِ ارم رہتے ہیں

 

نور والوں سے ہو نسبت تو اندھیرے کیسے

ان کو ہر موڑ پہ صد نور بہم رہتے ہیں

 

کربلا والوں کا غم دل میں بسا ہے جب سے

دور اشفاق سے سب رنج و الم رہتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات