کہکشاؤں کے سحر زیرِ قدم رہتے ہیں

کہکشاؤں کے سحر زیرِ قدم رہتے ہیں

زاویے فکر کے جب سوئے حرم رہتے ہیں

 

شہرِ خوشبو میں ہو دھڑکن پہ ادب کا پہرہ

سانس آہستہ، یہاں میرِ امم رہتے ہیں

 

ان کے دربار سے لوٹے ہیں تو حالت یہ ہے

ہجر کی گود میں با دیدۂ نم رہتے ہیں

 

طائرِ فکر کا محور ہے فضائے مدحت

خدمتِ نعت میں قرطاس و قلم رہتے ہیں

 

جلوۂ شاہِ دو عالم سے مہکتا ہے ارم

بہرِ دیدار، طلب گارِ ارم رہتے ہیں

 

نور والوں سے ہو نسبت تو اندھیرے کیسے

ان کو ہر موڑ پہ صد نور بہم رہتے ہیں

 

کربلا والوں کا غم دل میں بسا ہے جب سے

دور اشفاق سے سب رنج و الم رہتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اللہ کے بعد نام ہے میرے حضور کا
ہے دل میں جلوۂ رُخِ تابانِ مصطفےٰ
عیدِ میلاد ہے آج کونین میں ، ہر طرف ہے خوشی عیدِ میلاد کی
آنکھوں میں اشک، دل میں ہو الفت رسول کی
اے کاش! تصور میں مدینے کی گلی ہو
آپ نےاک ہی نظرمیں مجھکوجل تھل کردیا
عدو کے واسطے، ہر ایک امتی کے لیے
نہ دولت نہ جاہ وحشم چاہتا ہوں
اندازِ کرم بھی ہے جدا شانِ عطا بھی
محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں

اشتہارات