اردوئے معلیٰ

کہہ دوں شہِ کونین پہ جب بات چلی ہے

کہہ دوں شہِ کونین پہ جب بات چلی ہے

سر تا بہ قدم رحمتِ ذاتِ ازلی ہے

 

جب دل میں ترے آئے مدینہ کو چلی ہے

قسمت تری اے بادِ صبا مجھ سے بھلی ہے

 

اے صلِّ علیٰ نامِ محمد کی یہ تاثیر

جب آئے زباں پر تو کھلی دل کی کلی ہے

 

اس چاند کے ہالے میں ہیں کیا خوب ستارے

صدیقؓ ہے فاروقؓ ہے عثماںؓ ہے علیؓ ہے

 

وہ آئے تو روشن ہوئی یہ محفلِ ہستی

قندیل یہ ایماں کی اسی دن سے جلی ہے

 

فردوس کا نقشہ ابھی واضح نہیں مجھ پر

دیکھی نہیں آنکھوں سے ابھی ان کی گلی ہے

 

خم خانۂ باطل کے ہر اک جام کو توڑوں

میخانۂ وحدت کی ترے بوند بھلی ہے

 

امت کی سرِ حشر وہی ذاتِ گرامی

حامی ہے مددگار ہے ناصر ہے ولی ہے

 

اے کشتی ملی کے نگہبان مدد کر

گرداب کے رخ پر ہے ہوا ایسی چلی ہے

 

قرآں بھی پسِ پشت ہے سنت بھی پسِ پشت

امت تری اب مرتکبِ بد عملی ہے

 

آرام گہ شاہِ دو عالم ہے جہاں پر

اس شہر کی مٹی مجھے سونے کی ڈلی ہے

 

ہو چشمِ کرم اے شہِ دیں اپنے نظرؔ پر

پژمردہ و بے رنگ ابھی دل کی کلی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ