کیامیسر ہے ، میسر جس کو یہ جگنو نہیں

کیا میسر ہے ، میسر جس کو یہ جگنو نہیں

نعت کیا لکھے گا جس کی آنکھ میں آنسو نہیں

 

اللہ اللہ رحمۃُ لِلّعالَمینی آپؐ کی

آپ جیسا دہر میں کوئی ملائم خو نہیں

 

اسم احمدؐ سے مہک اُٹھی ہے بزم کائنات

گلشنِ تخلیق میں ایسی کوئی خوشبو نہیں

 

اک یہی نسخہ تو جملہ علّتوں کا ہے علاج

آپ کے پیغام میں کس درد کا دارو نہیں

 

اللہ اللہ مصطفیؐ کی سیرت و کردار کا

کون سا پہلو ہے جس میں خیر کا پہلو نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اِک عقیدت کے ساتھ کہتا ہوں
یہ میری آنکھ ہوئی اشکبار تیرےؐ لیے
خیال افروز ہے نام محمدﷺ
میں سیہ کار خطا کار کہاں
ذہن دل پر نقش ہے شہزاد کے طیبہ کا رنگ
نہ ایسا کوئی تھا نہ ہے وہ پیکرِ جمال ہے
شاعر بنا ہوں مدحتِ خیرالبشر کو میں
لوحِ دل پر جو تنزیلِ مدحت ہوئی نطق مدحِ محمد کا خو گر ہوا
مُنہ سے جب نامِ شہنشاہِ رسولاں نکلا
معدن جود و عطا شاہِ مدینہ آقا