اردوئے معلیٰ

Search

کیا بگڑا ہے عشق گنوا کر ؟ خوش ہوں میں

کپڑے ، جوتے ، نوکر ، چاکر خوش ہوں میں

 

ٹھوکر مار کے چاک کے ٹکڑے کر ڈالے

خود اپنی ہی خاک اڑا کر خوش ہوں میں

 

دیکھ فقیرا خوشیاں اچھی خاصی ہیں

تو اب کوئی اور دعا کر ، خوش ہوں میں

 

دل کی آج بھڑاس نکالی ایسے بھی

شیشے کا گلدان گرا کر خوش ہوں میں

 

کھانے کو آتی تھی گھر کی خاموشی

تھوڑا سا کہرام مچا کر خوش ہوں میں

 

ماں کی گود میں دنیا بھر کی خوشیاں ہیں

اپنی ماں کے گھر میں آکر خوش ہوں میں

 

من میں بے شک ایک قیامت برپا ہو

کومل سب سے یار کہا کر ، خوش ہوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ