کیا تغزل تھا اس تکلم میں

کیا تغزل تھا اس تکلم میں

بولتا تھا کوئی ترنم میں

 

بہہ گیا جامِ ضبط سے آخر

اور میں جذب ہو گیا تم میں

 

آسماں گر پڑا ہے دھرتی پر

اور میں پِس گیا تصادم میں

 

عادتاً کھِنچ گئے تھے لب میرے

کچھ معانی نہ تھے تبسم میں

 

احمقو ، ناخدا بدلنے سے

فرق کیا آگیا تلاطم میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ