اردوئے معلیٰ

کیا حسیں میرا مقدر ہو گیا

کیا حسیں میرا مقدر ہو گیا

اُن کے در کا میں گداگر ہو گیا

 

اُن کے در سے مانگنے والا فقیر

ہم نے یہ دیکھا سکندر ہو گیا

 

لائے جب تشریف وہ نورِ خدا

یہ جہاں سارا منور ہو گیا

 

خواب میں چوما جو ان کا نقشِ پا

باطن و ظاہر معطر ہو گیا

 

اس سے بڑھ کون ہو گا خوش نصیب

جس کو دیدارِ پیمبر ہو گیا

 

جب بھی آصف پر کوئی مشکل پڑی

نامِ احمد جاری لب پر ہو گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ