کیا ذکر محمد نے تسکین دلائی ہے!

 

کیا ذکر محمد نے تسکین دلائی ہے

جس آگ میں جلتا تھا وہ آگ بجھائی ہے

 

شیدائے محمد کی ہر شان ہے ذیشانی

دامانِ کرم سر پہ قدموں میں خدائی ہے

 

کعبے کا ارادہ تھا لے آئی مدینے میں

تدبیر کے سائے میں تقدیر بن آئی ہے

 

خود آنکھیں بچھاتے ہیں راہوں میں خرد والے

دیوانۂ طیبہ کی کیا خوب بن آئی ہے

 

صد طور بداماں ہے ہر سانس نظر بن کر

انوار شہِ دیں نے تقدیر جگائی ہے

 

توصیف شہِ والا کس منہ سے بیاں ہوگی

قرآں کی قسم قرآں خود مدح سرائی ہے

 

اس نام کی برکت سے اس ذکر حقیقت سے

ہر نعت کا متوالا جامیؔ و سنائیؔ ہے

 

اسلام کی سیرابی مقصد تھا صبیحؔ اُن کا

عاشور کے پیاسوں کی خشکی بھی ترائی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جسے عشق شاہ رسولاں نہیں ہے
سیرت کے انوار
کتنا سادہ بھی ہے سچا بھی ہے معیار ان کا
اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا
یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے
اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے
رحمت عالم محمد مصطفی
مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو
آرام گہِ سید سادات یہ گنبد
محفل میں تھا اکیلا , تھے جذبات منفرد

اشتہارات