کیا شان ہے کیا رتبہ ان کا، سبحان اللہ سبحان اللہ

کیا شان ہے کیا رتبہ ان کا، سبحان اللہ سبحان اللہ

رکھتے ہیں وہ منصب سب سے جدا، سبحان اللہ سبحان اللہ

 

چہرے کے بیاں اوصاف کروں یا مدح کروں میں زلفوں کی

بے مثل ہیں وہ تو سر تا پا سبحان اللہ سبحان اللہ

 

کونین میں میرے آقا کی اک ذاتِ مقدس ہے ایسی

خود خالق بھی جس کا شیدا سبحان اللہ سبحان اللہ

 

جب میرے آقا چلتے تھے خوشبو سے مہکتے رستے تھے

اور ابر بھی سایہ کناں رہتا سبحان اللہ سبحان اللہ

 

رخ ان کا جدھر ہو جاتا ہے قبلہ بھی ادھر ہو جاتا ہے

ہے ان کی رضا میں رب کی رضا سبحان اللہ سبحان اللہ

 

اس حسنِ شہِ کوثر پہ فدا، آصف مری جاں اور دل بھی مرا

جس نے بھی اسے دیکھا تو کہا سبحان اللہ سبحان اللہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات