اردوئے معلیٰ

کیا عجب اوجِ کمالات ہے، ماشااللہ

سامنے شہرِ عنایات ہے، ماشااللہ

 

ہمرہِ بادِ صبا مَیں بھی مدینے جاوٗں

یہ بھی اِک موجِ خیالات ہے، ماشااللہ

 

نعت کے رنگ میں کھِلتے ہُوئے الفاظِ دُعا

نعت ہی حاصلِ دعوات ہے، ماشااللہ

 

رات بھر گاتی رہے ارض یونہی ہجر کے گیت

کوئی مہمانِ سماوات ہے، ماشااللہ

 

آنکھ میں بھی ہیں اُسی یاد کے موتی رقصاں

دل میں بھی نعت کی خیرات ہے، ماشااللہ

 

ایک ہی عرض ہے، وہ عرض مدینے والی

ایک ہی اپنی مناجات ہے، ماشااللہ

 

مَیں گنہگار ہُوں، لیکن مرا والی، وارث

شافعِ یومِ مکافات ہے، ماشااللہ

 

جادئہ زیست پہ ٹھوکر نہیں کھانے والے

رہنما جن کی تری بات ہے، ماشااللہ

 

ضَوفشاں ایک وہی اِسم ہے طاقِ دل میں

جو چمکتا سرِ آیات ہے، ماشااللہ

 

خَلق میں بٹتا ہُوا رزق کا یہ سیلِ رواں

ریزئہ خوانِ مدارات ہے، ماشااللہ

 

خامہ بھی لکھتا ہے مقصودؔ اُسی کی نعتیں

لب پہ بھی مصرعِ لمعات ہے، ماشااللہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات