اردوئے معلیٰ

کیا عجب لطف و عنایات کا در کھُلتا ہے

جب تری نعت کی خیرات کا در کھُلتا ہے

 

موجۂ اذنِ سفر دیتا ہے حیرت کو نمو

عرض سے پہلے مدارات کا در کھُلتا ہے

 

نعت بے صوت عقیدت کا ہے اعجازِ سخن

قریۂ دل میں مناجات کا در کھُلتا ہے

 

پہلے کھِلتا ہے کفِ عرض پہ امکانِ درود

بعد میں شہرِ سماوات کا در کھُلتا ہے

 

جب کریں چارہ گری، چارہ گرِ کربِ نہاں

عرصۂ خیر کی ساعات کا در کھُلتا ہے

 

ایک احساس چمکتا ہے سرِ بامِ طلب

خواب کے طاق میں لمعات کا در کھُلتا ہے

 

کعبۂ دل کو رواں ہو یہ تمنا، لیکن

اذن ملتا ہے تو میقات کا در کھُلتا ہے

 

اوجِ تقدیر پہ جب ہوتا ہے وہ اِسم طلوع

بند ہوتے ہُوئے حالات کا در کھُلتا ہے

 

اُن کی مرضی پہ ہے موقوف جہانِ قسمت

اُن کی بخشش سے ہی نِعمات کا در کھُلتا ہے

 

تیری آہٹ سے ہے وَا بابِ شہودِ کونین

روبرو تیرے، سوالات کا در کھُلتا ہے

 

حرفِ بے نُور کو مقصودؔ مقفل کر لے

بہرِ مدحت ابھی آیات کا در کھُلتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات