اردوئے معلیٰ

Search

کیا مری بات پر یقین نہیں ؟؟

یار!! بہتر ہوں بہترین نہیں

 

دیکھنے کی طلب فضول کہ میں

عام سی ہوں ، بہت حسین نہیں

 

شعر کہہ کہہ کے تھک بھی سکتی ہوں

شاعرہ ہوں کوئی مشین نہیں

 

وہ بھی نقاد ہیں مرے، جن کی

بحر اپنی ، کوئی زمین نہیں

 

وہ تو ہم نے بنا لیا مذہب

ورنہ یہ عشق کوئی دین نہیں

 

اک تجھے دیکھنے کا شوق ہے بس

کم سے کم یہ تو مجھ سے چھین نہیں

 

کیا کروں گی میں وسعتِ صحرا

میں کسی دشت کی مکین نہیں

 

میں نے آنے کا ایک بار کہا

اس نے میسج پہ بھیجیں "​تین”​،،”​نہیں”​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ