کیا پتہ اب منتظر آنکھوں میں بینائی نہ ہو

کیا پتہ اب منتظر آنکھوں میں بینائی نہ ہو

کیا خبر ہم دستکیں دیں اور شنوائی نہ ہو

 

کیا پتہ بارانِ رحمت کا گذر محلوں سے ہو

کیا خبر کچّے مکانوں پر گھٹا چھائی نہ ہو

 

کیا پتہ جل جائیں سورج کی تمازت سے بدن

کیا خبر انجام اِس جذبے کا رسوائی نہ ہو

 

کیا پتہ اپنوں میں کوئی رنگ میرا ناں ملے

کیا خبر وہ اجنبی ہو کر مِرا آئینہ ہو

 

کیا پتہ تیری طلب سر پھوڑنا ہو سنگ سے

کیا خبر یہ بات ہم نے دِل کو سمجھائی نہ ہو

 

کیا پتہ چہرے سلگتے ہوں ابھی تک دھوپ میں

کیا خبر شبنم شگوفوں پر اُتر آئی نہ ہو

 

کیا پتہ لوٹیں تو سوچا ہو بہت کچھ کہنے کا

کیا خبر وہ سامنے آئے تو گویائی نہ ہو

 

کیا پتہ بچھ جائیں اشعرؔ رستہ رستہ دائرے

کیا خبر حاصل سفر کا آبلہ پائی نہ ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں
ھجر میں ھے یہی تسکین مُجھے
وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ
پڑھا گیا مرا روزِ جزا جو نامہِ عشق
تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں
پھول کھلا روِش روِش ، نُور کا اہتمام کر
خُدا نے تول کے گوندھے ہیں ذائقے تم میں
اچھا ہوا بسیط خلاؤں میں کھو گئے
تم نے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا؟
چکھنی پڑی ہے خاک ہی آخر جبین کو