کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں

 

کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں

یہ صبحِ بہاراں کہتی ہے وہ آقا آنے والے ہیں

 

آؤ مل کر نعت پڑھیں ہم ، آؤ ان کا ذکر کریں

جن کے چرچے جان و دل میں پھول کِھلانے والے ہیں

 

چندا ، سورج ، جگنو ، تارے ، اپنے اُجالے ان پر واریں

اپنے روشن چہرے سے جو ہر بزم سجانے والے ہیں

 

تم بھی جھولی بھر بھر پاؤ ، سرکار مدینے والے سے

پیٹ پہ پتھر باندھ کے آقا اوروں کو کِھلانے والے ہیں

 

سب کو سہارا جو دیتے ہیں آؤ ان کے دیس چلیں ہم

ناداروں کو سینے سے بھی ، آقا ہی لگانے والے ہیں

 

والَّیل کی کالی زلفوں میں ، رحمت کی گھٹائیں رہتی ہیں

خود ابرِ کرم یہ کہتے ہیں ہم پیاس بجھانے والے ہیں

 

دامن دامن ، نعمت نعمت بانٹی جس نے قاسم بن کر

یہ جشنِ بہاراں کہتا ہے وہ داتا آنے والے ہیں

 

خوشیاں منائیں ، نعرے لگائیں ، آؤ ان کی آمد پر ہم

جام ہمیں رب کی وحدت کا سرکار پلانے والے ہیں

 

ان کی نعتیں ہم کو پیاری ، جن کی باتیں جان ہماری

شاعرؔ! رب سے انسانوں کو بِن دیکھے ملانے والے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کالی کملی والے
نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے
جانے کب اوج پہ قسمت کا ستارا ہوگا
حالِ دل کس کو سناوں آپ کے ہوتے ہوئے
ہر سانس ہجر شہ میں برچھی کی اک اَنی ہے
لکھوں مدح پاک میں آپ کی مری کیا مجال مرے نبی
اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
مرا کیف نغمۂ دل، مرا ذوق شاعرانہ​
مجھے عنایت، جو زندگی ہے اسی کا محور مرا نبیؐ ہے
جشن میلاد النبیؐ ہے صاحب قرآن کا

اشتہارات