اردوئے معلیٰ

کیا کہوں میں کہ کیا محمد ہے

کیا کہوں میں کہ کیا محمد ہے

ایک نورِ خدا محمد ہے

 

محفلِ قرب کی خبر کس کو

واں تو اللہ یا محمد ہے

 

یہ فقط نقصِ دید ہے ورنہ

کیا خدا سے جدا محمد ہے

 

کس کو باریک بینیاں اتنی

کون سمجھے کہ کیا محمد ہے

 

عبدِ اصنام کیوں نہ دشمن ہوں

دوست اللہ کا محمد ہے

 

عاصیانِ سقیم کو مژدہ

کہ شفیع الورا محمد ہے

 

ہو نہ کس طرح زندہء جاوید

ذاتِ حق میں فنا محمد ہے

 

اُس سے جھلکے ہے نورِیزدانی

جوہرِ حق نما محمد ہے

 

اور بھی گو ہوئے خلیل و کلیم

پر حبیبِ خدا محمد ہے

 

مقتدایانہ گام فرسا ہے

خضرِ راہِ ہُدا محمد ہے

 

میرے دل کے نگیں پہ اے مجروح

نقش صلِ علیٰ محمد ہے​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ