لندن کے سفر سے واپسی پر

کیا کیا گُلاب رقص کُناں رہگزر میں تھا

بادِ جنُوں کے ساتھ میں دم دم سفر میں تھا

 

ایک آدھ شام گُذری مئے لالہ گُوں کے ساتھ

دو چار دن پڑاؤ پرندوں کے گھر میں تھا

 

کُچھ دن دیارِماہ وشاں میں بسر کیے

کُچھ دن مرا قیام محبت نگر میں تھا

 

گلیوں میں تھیں قدیم پُراسرار خوشبوئیں

صدیوں پُرانا بھید کوئی بام و در میں تھا

 

پانی وہاں کا سبز تھا ، مٹی وہاں کی سُرخ

میں اک عجیب سلسلہء بحر و بر میں تھا

 

تنہا نہ تھا میں ٹیمز کی موجوں کے سحر میں

سارے کا سارا شہر اُنہی کے اثر میں تھا

 

پُھولوں سے میں نے نظم سُنی ورڈز ورتھ کی

شیلے کا رنگ محوِ سُخن ہر شجر میں تھا

 

ماہِ تمام بن کے دکھائی دیا مجھے

وہ معجزہ جو کیٹس کے دستِ ہُنر میں تھا

 

خاموشیوں کی دُھن پہ تھرکتی تھیں دھڑکنیں

میں عام رقص میں نہیں، رقصِ دگر میں تھا

 

اُڑتا رہا میں شام و سحر بادلوں کے ساتھ

پرواز کا جنون مرے بال و پر میں تھا

 

لیکن نظرنواز نظاروں کے باوجود

اک ان کہا سا دُکھ مرے شام و سحر میں تھا

 

اے تُو کہ تیری یاد ہے میری غزل کی رُوح

سُن لے کہ میں جدھر بھی گیا ، تُو نظر میں تھا

 

تیرا ہی دھیان میری رگوں میں تھا موجزن

تیرا ہی عکس آئنہء چشم ِتر میں تھا

 

مجھ کو بہم تھیں حلقہء یاراں کی صحبتیں

یعنی سفر میں ہوتے ہوئے بھی میں گھر میں تھا

 

لگتا ہے چھوڑ آیا ہُوں فارس وہیں کہیں

جاتے ہوئے تو دل مرے رخت ِسفر میں تھا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

چَل آ اِک ایسی نظم کہوں ، جو لفظ کہوں وہ ہو جائے
عرضی
مکالمہ مابین مسلمان اور سوشلسٹ
جوکر
پیار کرو ۔ناں
فارس اک روز اسی عطر سے مہکے گا وہ شخص
اُن کے دل میں قُل ھُوَ اللہُُ اَحَد ھے مَوجزن
جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی
معلوم ہے جناب کا مطلب کچھ اور ہے
جس شہر میں سحر ہو وہاں شب بسر نہ ہو