اردوئے معلیٰ

Search

کیا ہوا عمر گزاری ہے اگر تنہا بھی

وقت کٹ جائے غنیمت ہے کٹے جیسا بھی

 

بستیاں لوگ بساتے ہی اجڑ جاتے ہیں

زندگی کھیلتی ہے کھیل کبھی ایسا بھی

 

وقت کے دائرے میں گھوم رہے ہیں ایسے

دشت کی دھوپ بھی ہم لوگ ہیں اور دریا بھی

 

خون ِ معصوم کی عطرت ہی نہیں اس پہ عیاں

حرملہ تیر پہ لکھا ہے ترا شجرہ بھی

 

کل تلک آئنے سے تھی مری قربت مشہور

اب مجھے اچھا نہیں لگتا مرا چہرہ بھی

 

عرصہ ہجر اگرچہ تھا بڑا جان افزا

جسم میں باقی نہیں خون کا اک قطرہ بھی

 

میں جہنم کا ہوں حق دار کہ جنت کا بتا ؟

دین کے ساتھ مرے ہاتھ میں ہے دنیا بھی

 

اس لیے اشک اضافی بھی رکھے آ نکھوں میں

کربلا ہی نہیں جانا ہے مجھے برما بھی

 

اب کہاں جاؤں کروں رقص جیوں کیسے فقیہہ

ڈر گئے ہیں مری وحشت سے یہاں صحرا بھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ