کیسا لہجہ تھا کس حال میں وہ رہی ایک ہی سانس میں

کیسا لہجہ تھا کس حال میں وہ رہی ایک ہی سانس میں

کہنے والی کہانی مری کہہ گئی ایک ہی سانس میں

 

یہ بھلا کیا کہ اک ایک گھونٹ اپنے اندر اترتا رہے

مے اگر تو نے پینی ہے تو ساری پی ایک ہی سانس میں

 

ایک ہی سانس میں ہے سمایا ہوا یہ جہاں اے خدا

ہم نے ساری خدائی تری دیکھ لی ایک ہی سانس میں

 

جتنے بھی اہل محفل تھے منہ وہ مرا دیکھتے رہ گئے

بزم میں ان کی تعریف کچھ ایسے کی ایک ہی سانس میں

 

ان کے ہونٹوں کا لمس ایسے چہرے پہ محسوس ہوتا رہا

ہم نے ساری حیاتیں یوں ہی کاٹ لیں ایک ہی سانس میں

 

ایک ہی سانس میں ہم نے طاہرؔ سبھی کچھ کہا آپ سے

جو بھی کہنا ہے کہہ دیجیے آپ بھی ایک ہی سانس میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ