کیسا وہ سماں ہوگا کیسی وہ گھڑی ہوگی

کیسا وہ سماں ہوگا کیسی وہ گھڑی ہو گی

جب پہلی نظر اُن کے روضے پہ پڑی ہو گی

 

رشک آیا دو عالم کو اس وقت حلیمہ پر

آقا کو لگا سینے جب گھر کو چلی ہو گی

 

وابستہ جو ہوجائے سرکار کے قدموں سے

ہر چیز زمانے کی قدموں میں پڑی ہو گی

 

کیا سامنے جاکے ہم حال اپنا سنائیں گے

سرکار کا در ہوگا اشکوں کی لڑی ہو گی

 

وہ شیشۂ دل غم سے میلا نہ کبھی ہوگا

تصویرِ محمد کی جس دل میں جڑی ہو گی

 

اُس کوچۂ جاناں میں آہستہ قدم رکھنا

ہر جا پہ ملائک کی بارات کھڑی ہو گی

 

چارا نہ کوئی کرنا بس اِک نعت سنا دینا

نا چیز ظہوری کی جب سانس اڑی ہو گی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ