کیسے اثر کریں گے ستم کے بلا کے ہاتھ

کیسے اثر کریں گے ستم کے بلا کے ہاتھ

جب مجھ کو چھو چکے ہیں مرے مصطفٰی کے ہاتھ

 

مجھ کو مری طلب سے زیادہ عطا کیا

کھینچے کبھی نہ آپ نے لطف و عطا کے ہاتھ

 

قاصد کوئی بھی مجھ کو میسر نہیں حضور

پیغام اب کے بھیج رہا ہوں ہوا کے ہاتھ

 

مجھ کو بلائیے درِ اقدس پہ یا نبی

بیٹھا ہوں میں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ

 

اس شیرِ کردگار کی کیا شان میں لکھوں؟

پرچم اٹھائے رکھا ہے جس نے کٹا کے ہاتھ

 

ہو مجھ کو بھی نصیب مدینے کی حاضری

سائل تک اس سے پہلے نہ پہنچیں قضا کے ہاتھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ