اردوئے معلیٰ

کیسے نہ بیتِ نعت میں خوشبو رچائے حرف

کیسے نہ بیتِ نعت میں خوشبو رچائے حرف

صد برگِ عشق رکھا ہے میں نے ، بجائے حرف

 

رحمت کی اک نوید تھا ہر لختِ لفظِ کُن

منظر نمائے خیر تھی گویا ، صدائے حرف

 

قرطاس پر اُتَرنے کو بے تاب ہیں خیال

آقا کریں قبُول تو خامہ ، سجائے حرف

 

تاباں ہے ایسے مدح نگاری میں سطر سطر

ہر لفظ نے لگائی ہو جیسے ، حنائے حرف

 

یونہی نہیں حروفِ تہجی میں اتنی ضَو

سب میم کے جمال سے ہیں ،جگمگائے ، حرف

 

حرفِ دُعا کو اسمِ محمد سے ربط ہو

آتی ہے راس دستِ دعا کو دعائے حرف

 

ان کے لبِ طہور کے بوسے ہوئے نصیب

کتنی بڑی عطا ہے یہ، از خود برائے حرف

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ