اردوئے معلیٰ

Search

کیسے ہو زندگی بسر آقا

پاس میرے نہیں ہنر آقا

 

مال و دولت نہ کوئی زر آقا

تجھ پہ ہے آسرا مگر آقا

 

مجھ پہ رحمت کی ہو نظر آقا

دیکھ لوں میں بھی تیرا در آقا

 

ہوگا نفسی میں جب بشر آقا

میری رکھ لینا تم خبر آقا

 

لیکے جھولی میں کب سے بیٹھا ہوں

جائے جھولی مری بھی بھر آقا

 

اڑ کے آؤں میں شہر طیبہ میں

کاش لگ جائے مجھ کو پر آقا

 

چوم لوں میں بھی خاک طیبہ کی

میرا ہو جس گھڑی گزر آقا

 

آتے ہیں صبح و شام قدسی جہاں

کیسا ہوگا وہ تیرا در آقا

 

میری حسرت ہے والدین مرے

کرلیں طیبہ کا اب سفر آقا

 

میرے گھر میں حضور آئیں کبھی

کر دیں روشن مرا بھی گھر آقا

 

شب گزرتی نہیں ہے میری اب

نہیں ہوتی ہے اب سحر آقا

 

تیرے طیبہ سے دور رہ کر ہم

روتے رہتے ہیں کس قدر آقا

 

تیری امت پہ کیسی آفت ہے

یہ بھٹکتی ہے در بدر آقا

 

ظلم بڑھتا رہا ہے برسوں سے

لیجیے سب کی اب خبر آقا

 

منہ چھپائے ہوئے میں پھرتا ہوں

ہے گناہوں سے بھاری سر آقا

 

چھوڑ کر آپ کا دیار کرم

جائے شاہد بھلا کدھر آقا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ