اردوئے معلیٰ

کیفِ دل کب سخن وری سے ملے

کیفِ دل کب سخن وری سے ملے

ہاں مگر مدحتِ نبی سے ملے

 

علم و دانش نہ آگہی سے ملے

راہِ حق اس کی پیروی سے ملے

 

روئے روشن ہو رشکِ ماہِ منیر

لب گلِ تر کی پنکھڑی سے ملے

 

اہلِ عالم کو رہنما کامل

ہر سبق سیرتِ نبی سے ملے

 

دینِ قیم صحیفۂ قرآں

یہ خزانے اسی سخی سے ملے

 

لے کے لوٹے وہ دولتِ ایماں

ان سے جو نیک نیتی سے ملے

 

علم و عرفاں کے سب درِ نایاب

بس اسی ایک جوہری سے ملے

 

کیسی ہے رب کی شانِ یکتائی

یہ خبر بھی ہمیں اسی سے ملے

 

یہ شرافت اسی نے سکھلائی

دوست کی طرح اجنبی سے ملے

 

جو نہ ہو اس کے دین کا تابع

چین کیا ایسی زندگی سے ملے

 

کہیں ملتا نہیں وہ کیف و سرور

جو ترے در کی حاضری سے ملے

 

جامِ کوثر نظرؔ کو ہے امید

آپ کی بندہ پروری سے ملے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ