اردوئے معلیٰ

کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی

جنت میں لے کے جائے گی چاہت رسول کی

 

چلتا ہوں میں بھی قافلے والو رکو ذرا

ملنے دو بس مجھے بھی اجازت رسول کی

 

سرکار نے بلا کے مدینہ دکھا دیا

ہوگی مجھے نصیب شفاعت رسول کی

 

یارب دکھا دے آج کی شب جلوہء حبیب

اک بار تو عطا ہو زیارت رسول کی

 

جس وقت نکیرین میری قبر میں آئیں

اس وقت میرے لب پہ ہو مدحت رسول کی

 

تڑپا کے ان کے قدموں میں مجھ کو گرا دے شوق

جس وقت ہو لحد میں زیارت رسول کی

 

تو ہے غلام ان کا عبیدؔ رضا تیرے

محشر میں ہو گی ساتھ حمایت رسول کی​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات