کیوں اپنا حال زار میں ان سے کہوں نہیں

کیوں اپنا حال زار میں ان سے کہوں نہیں

کیونکر ثنائے کعبۂ کعبہ کروں نہیں

 

ملکر لگا یہ زائر شہر رسول سے

ہجر دیار یار میں بلکل سکوں نہیں

 

روئے نبی کو دیکھ کے شمس و قمر کہیں

ہم پہ جمال غیر کا بالکل فسوں نہیں

 

آنکھوں میں ان کا حسن ہو ہاتھوں میں جالیاں

کاش آئے موت ماسوا شوق دروں نہیں

 

مجھ کو جب ان سے دین اور ایمان ہے ملا

گم ان کے عشق پاک میں کیسے رہوں نہیں

 

ہے مدح خوان کربلا آصف خدا گواہ

آقا حسین کے لئے کچھ کم جنوں نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات