اردوئے معلیٰ

کیوں اپنا حال زار میں ان سے کہوں نہیں

کیوں اپنا حال زار میں ان سے کہوں نہیں

کیونکر ثنائے کعبۂ کعبہ کروں نہیں

 

ملکر لگا یہ زائر شہر رسول سے

ہجر دیار یار میں بلکل سکوں نہیں

 

روئے نبی کو دیکھ کے شمس و قمر کہیں

ہم پہ جمال غیر کا بالکل فسوں نہیں

 

آنکھوں میں ان کا حسن ہو ہاتھوں میں جالیاں

کاش آئے موت ماسوا شوق دروں نہیں

 

مجھ کو جب ان سے دین اور ایمان ہے ملا

گم ان کے عشق پاک میں کیسے رہوں نہیں

 

ہے مدح خوان کربلا آصف خدا گواہ

آقا حسین کے لئے کچھ کم جنوں نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ