کیوں تمہیں کہتے نہیں جاؤ مناؤ بھی اسے

کیوں تمہیں کہتے نہیں جاؤ مناؤ بھی اسے

تم تو پتھر تھے تمہارے دوست بھی ویسے ہی ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مانتا ھُوں کہ مُجھے عشق نہیں ھے تُجھ سے
میں کہتا ہوں اُسے مت دیکھو لیکن
دل بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے
پڑا ہوں میں یہاں اور دل وہیں ہے
میں شوق وصل میں کیا ریل پر شتاب آیا
ترے مرے ملاپ پر وہ دشمنوں کی سازشیں
زندگی تلخ سہی زہر سہی ستم ہی سہی
خدا کرے کہ مجھے وقت چھین لے اور تم
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
یوں لگتا ہے اگلی باری اپنی ہے

اشتہارات