کیوں خدا کی نہ ہو اُس پہ رحمت سدا

کیوں خدا کی نہ ہو اُس پہ رحمت سدا

جس کے دل میں ہے آقا کی چاہت سدا

 

ہوں غلامِ شہنشاہِ کونین جب

ناز کیوں نہ کرے مجھ پہ قسمت سدا؟

 

قبر میں بھی رہے حشر میں بھی رہے

جیسے دنیا میں ہے ان سے نسبت سدا

 

ہو بقیعِ مبارک میں مدفن مرا

یوں میسر رہے ان کی قربت سدا

 

ہے دعا سانس آصف کی جب تک رہے

یہ کرے اپنے آقا کی مدحت سدا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ