اردوئے معلیٰ

کیوں نہ قربان ہوں پروانگی ہے، نزدیکی

کیوں نہ قربان ہوں پروانگی ہے، نزدیکی

آتشِ عشق کو بھڑکاتی ہے ان سے ،دوری

 

اس نے پر کھولے تو جاگ اٹھی درودوں کی مہک

نعت کے پھول سے ہونٹوں نے جو تتلی پکڑی

 

دیدِ طیبہ و حرم مثلِ جہانگیری ہے

میری نظروں میں سکندر سے بڑا ہے حاجی

 

نسبتِ شاہ سے ہے درجہ و تکریم کی شان

ورنہ سب عام سے ہیں ،کاظمی ہو یا نقوی

 

برکتِ دسِت نبی سے بھرا برتن اس نے

دودھ کچھ روز سے جو دیتی نہیں تھی بکری

 

اس سے بڑھ کر بھلا کیا ہوگی فضیلت کی نظیر

آپ کا نعل ہے فردوسِ بریں کی چابی

 

دل تو پھر دل ہیں یہ کیسے نہ مرادیں پائیں

راس آئی ہے پہاڑوں کو ثنائے نبوی

 

نعت کے باب میں پروازِ سخن ایسی ہو

داد دے تیرے تخیل کو بوئے بوصیری

 

اس جگہ مسجدِ نبوی کی بنا رکھی گئی

جس جگہ بیٹھ گئی آپ کی قصوا ڈاچی

 

سبز جھونکوں سے وہاں ہوتی ہے سرشار حیات

روضے کی جالی ہے فردوسِ بریں کی کھڑکی

 

نور اور صوت میں صدیوں کا توقف ہے حسیں

عشق نے چاہا سرِعرش صدا گونج اٹھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ