اردوئے معلیٰ

Search

کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتی

وہ فرق دلوں کا وہ جدائی نہیں جاتی

 

کیا دھوم بھی نالوں سے مچائی نہیں جاتی

سوتی ہوئی تقدیر جگائی نہیں جاتی

 

کچھ شکوہ نہ کرتے نہ بگڑتا وہ شب وصل

اب ہم سے کوئی بات بنائی نہیں جاتی

 

دیکھو تو ذرا خاک میں ہم ملتے ہیں کیونکر

یہ نیچی نگہ اب بھی اٹھائی نہیں جاتی

 

دیکھو تو ذرا خاک میں ہم ملتے ہیں کیونکر

یہ نیچی نگہ اب بھی اٹھائی نہیں جاتی

 

کہتی ہے شب ہجر بہت زندہ رہوگے

مانگا کرو تم موت ابھی آئی نہیں جاتی

 

وہ ہم سے مکدر ہیں تو ہم ان سے مکدر

کہہ دیتے ہیں صاف اپنی صفائی نہیں جاتی

 

ہم صلح بھی کر لیں تو چلی جاتی ہے ان میں

باہم دل و دلبر کی لڑائی نہیں جاتی

 

خود دل میں چلے آؤ گے جب قصد کرو گے

یہ راہ بتانے سے بتائی نہیں جاتی

 

چھپتی ہے جلالؔ آنکھوں میں کب حسرت دیدار

سو پردے اگر ہوں تو چھپائی نہیں جاتی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ