اردوئے معلیٰ

کیوں ہوش رُباء وقت ترے خواب مٹائے

بہتر ہے کہ اب دل کو جگایا ہی نہ جائے

 

کل شب مجھے سنگسار کیا جائے گا لوگو

جس شخص کو بھی مجھ سےشکایت ہووہ آئے

 

تُو لوحِ تخیل پہ کہں نقش تھا ، سو ہے

یوں تو غمِ دوراں نے کئی باب بھلائے

 

ہوتا گیا روشن ، پسِ دیوار وہ جتنا

اتنا ہی مری سمت میں بڑھتے گئے سائے

 

اب کون دلِ خواب گزیدہ کی سنے گا

کم بخت نے اک عمر تماشے ہی دکھائے

 

کچھ تیری نفاست کو خبر بھی ہے کہ میں نے

کس طور حوادث میں ترے خواب بچائے

 

اب ہاتھ بھی رکھو تو افاقہ نہیں ہونا

اب درد دحڑکتا ہے یہاں دل کی بجائے

 

پھر لوٹ کے آئی نہیں افلاک سے دیوی

میں نے تو بہت گھر کے در و بام سجائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات