اردوئے معلیٰ

Search

گئی فصل بہار گلشن سے

بلبلوں اڑ چلو نشیمن سے

 

فاتحہ بھی پڑھا نہ تربت پر

جا کے لوٹ آئے میری مدفن سے

 

مجھ کو کافی تھی قید حلقۂ زلف

بیڑیاں کیوں بنائیں آہن سے

 

زلف کے پیچ سے نہ رہ غافل

دوستی کر دلا نہ دشمن سے

 

ہو گریباں کا چاک خاک رفو

تار ہاتھ آئے جب نہ دامن سے

 

ناز و عشوہ نیا نہیں سیکھا

شوخ طرار ہے لڑکپن سے

 

چھوڑ کر تم اگر گئے تنہا

جی نکل جائے گا مرے تن سے

 

ہے کئی دن سے منتظر رعناؔ

جلوہ دکھلاؤ آ کے چلمن سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ