اردوئے معلیٰ

گدا نواز ہے اور نازِ آب و گِل بھی ہے

گدا نواز ہے اور نازِ آب و گِل بھی ہے

وہ ایک نام جو وجہِ سکونِ دل بھی ہے

 

الگ یہ بات کہ بخشا ہے تُو نے اذنِ طلب

سخن اگرچہ مرا خام و منفعِل بھی ہے

 

تری عطا کے تسلسل میں ہے یہ ہدیۂ حرف

ترے کرم کے اشاروں پہ مشتمِل بھی ہے

 

درود پڑھ کے روانہ کروں گا بہرِ کرم

دعائے بندۂ عاجز کہ مضمحل بھی ہے

 

دراز ہوں ذرا خوابِ کرم کے یہ لمحے

سحَر رُکے بھی کہ یہ وصل میں مُخِل بھی ہے

 

وہ ایک زخم جو کربِ دروں کا تھا غمّاز

بہ فیضِ نعتِ نبی اب وہ مندمِل بھی ہے

 

وہ تیری یاد ہے، رکھتی ہے جو حصار کے بیچ

وہ تیرا اِسم ہے جو حرز بھی ہے، ظِل بھی ہے

 

میانِ حشر بچا لے گا یہ حوالۂ نعت

اگرچہ ہاتھ میں اِک دفترِ مُذِل بھی ہے

 

سخن کا ربط ہے قائم ہر ایک سانس کے ساتھ

بجز ثنائے نبی سب سے منفصِل بھی ہے

 

ملا ہے اذن تو اب بے سبب نہیں بے خود

بڑے دنوں سے یہ دل گرچہ معتدل بھی ہے

 

کمالِ لطف ہے توفیقِ نعت بھی مقصودؔ

عجب تو یہ ہے کہ یہ فیض متّصِل بھی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ