اردوئے معلیٰ

Search

گرداب میں ہونٹوں پہ دعا دیکھ رہا ہوں

کشتی کو کنارے پہ کھڑا دیکھ رہا ہوں

 

اک نور میں ضم ہوتے ہیں سوچوں کے پرندے

حیرت سے عقیدت کی فضا دیکھ رہا ہوں

 

چَھٹ جاتے ہیں اذہان سے تفریق کے بادل

اک صَف میں وہاں شاہ و گدا دیکھ رہا ہوں

 

یہ باغِ مدینہ کے تصور کا ہنر ہے

پلکوں پہ جو اک پھُول کھلا دیکھ رہا ہوں

 

مہتاب ہوا جائے ہے یہ انکے کرم سے

جو گھر کے اندھیرے میں دِیا دیکھ رہا ہوں

 

ممکن ہے گزر اسکا ہو طیبہ کے چمن سے

حسرت سے میں پھر سوئے صبا دیکھ رہا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ