اردوئے معلیٰ

گردِ سفر نہیں ، بانگِ درا نہیں

گردِ سفر نہیں ، بانگِ درا نہیں

حدِ نگاہ تک ، تیرا پتہ نہیں

 

ہاں میں ہوں بیوفا ، تو بیوفا نہیں

میرا قصور ہے ، تیری خطا نہیں

 

اے دشتِ آرزو ، کر تو ہی گفتگو

اب تو یہاں کوئی ، میرے سوا نہیں

 

سچ پوچھیے تو اب اہلِ جنوں کو بھی

وحشت کا ان دنوں کچھ حوصلہ نہیں

 

میں نے یہ کب کہا میں بھی ہوں دیوتا

راہیؔ برا سہی ، اتنا برا نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ