اردوئے معلیٰ

گرچہ کم کم تری تصویر نظر آتی ہے

سات رنگوں کی صدا آٹھ پہر آتی ہے

 

شاعری نامی پرندے کے ذریعے مُجھ تک

کتنے نادیدہ زمانوں کی خبر آتی ہے

 

حیرتی ہوں کہ گلی والے گُلوں کی خوشبو

کیسے در کھولے بِنا صحن میں دَر آتی ہے

 

کون فنکار سنبھالے وہاں مصرعے کی لچک

قافیہ بن کے جہاں تیری کمر آتی ہے

 

فیصلہ کر لے کہ ہے کون زیادہ حَساس

تجھ کو آتی ہے مہک ، مجھ کو نظر آتی ہے

 

شعر تو بعد میں ہم سُنتے سُناتے رہیں گے

پہلے بتلا تجھے تعظیم ِ ہنر آتی ہے ؟

 

اور کیا آئے گا ہم اہل محبت پہ عذاب

ہاں ، قیامت ہے سو آنے دو اگر آتی ہے

 

راستہ لاکھ مقفل ہو گلے سے لب تک

چیخ تو چیخ ہے ، چپکے سے گزر آتی ہے

 

زبدگی بھی ہے بڑی ڈھیٹ سی اک محبوبہ

چھوڑ جائے تو کہاں بار دگر آتی ہے

 

ایسا خود کار ہے فارس مرے اشکوں کا نظام

خالی ہوتی ہے مری آنکھ تو بھر آتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات