اردوئے معلیٰ

Search

 

گرچہ ہر حرفِ سخن لؤ لؤ و مرجاں ہو جائے

محمدت پر وہ کہاں اس کے جو شایاں ہو جائے

 

ملتفت جب نگہِ رحمتِ یزداں ہو جائے

دل یہ مصروفِ ثنائے شہِ شاہاں ہو جائے

 

بے نقاب ان کا اگر چہرۂ تاباں ہو جائے

حسنِ مہتابِ جہاں تاب یہ پرّاں ہو جائے

 

آدمی کیوں نہ اس انسان پہ حیراں ہو جائے

جس کی سیرت بخدا جامعِ قرآں ہو جائے

 

صاحبِ عقل و خرد صاحبِ عرفاں ہو جائے

آدمی ان کا جو پیرو ہو تو انساں ہو جائے

 

نگہِ چشمِ نبوت کا جو فیضاں ہو جائے

صدقِ صدیقؓ پہ خود صدق بھی حیراں ہو جائے

 

ابنِ خطاب عمرؓ عدل کی میزاں ہو جائے

‘اسد اللہ’ علیؓ ہو ‘غنی’ عثماںؓ ہو جائے

 

کرم اے شاہِ امم خواجۂ گیہاں ہو جائے

میرے پہلو میں جو دل ہے وہ مسلماں ہو جائے

 

لاکھوں احساں ہیں ترے یہ بھی اک احساں ہو جائے

حشر میں مجھ پہ ترا سایۂ داماں ہو جائے

 

چشمِ رحمت جو تری سلسلہ جنباں ہو جائے

مجھ خطاکار کی بخشش کا بھی ساماں ہو جائے

 

جب خدا ان سے ملاقات کا خواہاں ہو جائے

شبِ معراج سرِ عرش وہ مہماں ہو جائے

 

ہے تمنائے نظرؔ بارگہ عالی میں

بار پائے تو وہیں آپ پہ قرباں ہو جائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ