اردوئے معلیٰ

Search

گرہ جو آگہی کی کھل رہی ہے

یہ سب عشقِ نبی کی روشنی ہے

 

یہاں کیا کام اندھے وسوسوں کا

یہاں چشمِ عقیدت جاگتی ہے

 

طلبگارِ گلِِ عشقِ نبی ہوں

اثر میری دُعا کا شبنمی ہے

 

لبِ تیرہ پہ پھر وہ اسم چمکا

صباحت پھر ہویدا ہو رہی ہے

 

جمالِ مصطفےٰ خضرِ خرد ہے

یہاں معذور فکرِ سامری ہے

 

لبوں پر ثبت اک مُہرِ کشش ہے

تمنا پُر ضیائے اسودی ہے

 

ہوں سر تا پا فدا بادِ وطن پر

یہی ٹھنڈی ہَوا ان کو لگی ہے

 

یہ آئینہ سفینہ بن گیا ہے

ذرا پہلے بڑی بارش ہوئی ہے

 

وہاں کیا کام اندھے وسوسوں کا

جہاں چشمِ عقیدت جاگتی ہے

 

بہارِ وجہِ کُن سے زندگی کے

تنفس میں کلی مہکی ہوئی ہے

 

زیارت سے ہے اوجِ کج مقدر

زیارت ہی مری خوش قامتی ہے

 

درود آنکھوں کے ہونٹوں پر ہے گویا

محبت جس جگہ ہو بولتی ہے

 

ہے مثلِِ برق اک اشکِ ندامت

وگرنہ سست رَو کو اک صدی ہے

 

جبینِ حزن پر انکی گلی میں

شکن پڑنے سے پہلے سوچتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ