اردوئے معلیٰ

Search

گر ملے تو لوں میں بوسے خامہء حسان کے

جس نے لکھے لفظ نعتِ سرورِ ذیشان کے

 

نعت لکھتے ہیں جو صفحے چوم کر قرآن کے

سائے میں بیٹھے ہیں وہ بھی حضرتِ حسان کے

 

عقل و دل کرتے ہیں جس لحظہ طوافِ مرتبت

خاک پر پاؤں کہاں پڑتے ہیں نقطہ دان کے

 

فیضِ قربت ہے کہ تیری بارگاہِ پاک پر

چومتے ہیں بادشہ جوتے ترے دربان کے

 

بھا گئی ہے اِس کو ایسے خُوش خرامی آپکی

چومتی ہے پاؤں ، ہستی ، حضرتِ انسان کے

 

آپکے عاشق کا ہوگا اس جگہ پھر کیا مقام

آپکا نوکر جہاں سائے میں ہو رضوان کے

 

صرف ذکرِ مصطفےٰ کر! تابہ منزل راہ میں

خود ملائک ہونگے رکھوالے ترے سامان کے

 

دے امانِ پیروی میں ، اپنے افلاکِ یقیں

طالعِ ارفع پرندے ہیں یہاں امکان کے

 

آپ کے جلوے سے اٹھا حسنِ آدم کا خمیر

آپ ہی محسن ہیں گویا حضرتِ انسان کے

 

سوزِ عشقِ مصطفے میں ہے جو خوشبوئے سخن

شمعِ مدحت کی جلَو میں اشک ہیں لوبان کے

 

آپکا فرمان مُہرِ مستند ہے اے نبی

یونہی تو چرچے نہیں ہیں آپکی برہان کے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ