گر یہ کناں شبوں کا غم

گر یہ کناں شبوں کا غم
سنو! تم کو پتہ ہوگا
کہ سردی کی شبیں تو لمبی ہو تی ہیں
پھر ایسے میں
کسی کی نیند اُڑ جائے
کسی کا چین کھو جائے
کسی کی کروٹوں سے
چادرِ بستر شکن آلود ہو جائے
کتابیں پڑھنے کو دل ہی نہ چاہے
فلم بھی دیکھی نہ جائے
سوچ پر اِک شخص چھایا ہو
وہ اپنا ہو،پرایا ہو
کہ جس نے دل دُکھایا ہو
تو ان لمحات میں
بس ’’موت‘‘ اچھی لگتی ہے۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس قدر مصروفیت ہے
ملالہ یُوسف زئی کے نام
روٹی کپڑا اور مکان
ہائے یہ رنج محبت کہ جسے پانے میں
نومبر چل رہا
آپؐ سے میری نسبت مرا فخر ہے
اسطرح قید ہوں ذات کے خول میں
کچھ اِس خیال سے شہ کے قریں نہیں جاتے
اسکاٹ لینڈ
چلو اداسی کے پار جائیں

اشتہارات