اردوئے معلیٰ

گزشتہ غم کا تدارک ہے اور مداوا ہے

چل اٹھ دلا کہ نئے عشق کا بلاوا ہے

 

اُداسی اپنے تئیں کر رہی ہے مجھ میں قیام

یہ زہرِ عشق نہیں عشق کے علاوہ ہے

 

تمام شہر ہے اس کا مرید گر چہ وہ شخص

فقیر پیر قلندر ولی نہ باوا ہے

 

مرے چراغ مرے خواب کر قبول اے شخص

ترے مزار سے چہرے پہ یہ چڑھاوا ہے

 

کسی بھی شے کا حقیقی کوئی وجود نہیں

یہاں پہ جو بھی ہے ناٹک ہے سب دکھاوا ہے

 

یہ جس میں ہنستے ہوئے سانس لے رہے ہیں ہم

اسی سکون میں لگتا ہے ہر ڈراوا ہے

 

یہاں سکوت بگولے ملیں نہ کیسے تجھے

مرے مکان میں صحرا کا آوا جاوا ہے

 

فقیہہ راکھ دھوئیں کے سوا ملے کیا داد

کلام ہی ترا آتش فشاں کا لاوا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات