اردوئے معلیٰ

گفتۂ حضرتِ حسان کی تقلید میں ہیں

نعت گو سارے کے سارے صفِ تائید میں ہیں

 

نعت کے نُور سے اُبھریں گے بہ اوجِ طلعت

جو ہیولے مرے افکار کی تسوید میں ہیں

 

جس کے ما بعد ہی کُھلتی ہے کتابِ مدحت

حرف کے جملہ محاسن اُسی تمہید میں ہیں

 

خوف کیا گرمئ خورشیدِ قیامت کا کہ ہم

سایۂ گیسوئے والیل کی تبرید میں ہیں

 

وہ جو مدحت سے شرَف یابِ عنایت نہ ہُوا

ہم اُسی حرفِ تہی لطف کی تردید میں ہیں

 

کتنی راتوں میں تری تابشِ یادِ نَو ہے

کتنی صحبتیں ترے احساس کی تجدید میں ہیں

 

ٹھوکریں کھائیں گے وہ خائب و خاسر ہو کر

’’ وَرفَعنا لکَ ذکرک ‘‘ کی جو تحدید میں ہیں

 

اولِ خَلق بھی تُو ، افضلِ مخلوق بھی تُو

جملہ اوصآف تری ہستئ جاویدِ میں ہیں

 

مثلِ سرکارِ دو عالَم نہیں کوئی مقصودؔ

اوج کے سارے نشاں آپ کی تفرید میں ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات