گلاب لفظ ہیں درکار اب قلم کے لیے

گلاب لفظ ہیں درکار اب قلم کے لیے

سجاؤں نعت کی مالا شہِ امم کے لیے

 

درود ، نعت نبیؐ اور چشمَ نم دیدہ

غلام کا ہے یہ رختِ سفر عدم کے لیے

 

اے کاش خاکِ مدینہ کہیں سے مل جائے

یہی ہے سرمہ ءِ اکسیر چشمِ نم کے لیے

 

ملی جو مُہرِ غلامی مجھے محمدؐ کی

بروزِ حشر بہت ہے مجھے کرم کے لیے

 

میں پہلی سانس میں خوشبو نبیؐ کی پا لیتا

مدینہ لکھ دیا جاتا اگر جنم کے لیے

 

کمال لفظِ محمدؐ کی پائی ہے تاثیر

روا رکھا ہے اسے میں نے دل پہ دم کے لیے

 

ادب سے تھام کے جالی کو میں سناؤں گا

میں خاص نعت کہوں گا عطا حرم کے لیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ
بنے ہیں دونوں جہاں شاہِ دوسرا کے لیے
بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے
جب تصور میں کبھی گنبد ِ خضراء دیکھوں
ہر شئے میں تیرے نور کا جلوہ ہے یا نبی
رات دے سارے حمیتی زرد پیلے ہوگئے
اگرچہ چشمِ ارادت نظر کنی صاحبؔ
کوئی ان کے بعد نبی ہوا ؟نہیں ان کے بعد کوئی نہیں