گلی گلی میں اتر چکے ہیں کتاب آنکھوں کے زندہ نوحے

گلی گلی میں اتر چکے ہیں کتاب آنکھوں کے زندہ نوحے

حسین چہروں کا سرخ ماتم شراب آنکھوں کے زندہ نوحے

 

زمیں کے سینے میں زندہ ہیں جو اگر سماعت ہے سن سکو تو

مری نگاہوں سے آج سن لو حجاب آنکھوں کے زندہ نوحے

 

کہ میری غزلوں میں میری نظموں میں کرب آ کر سمٹ گیا ہے

مرے قلم سے نکل رہے ہیں جناب آنکھوں کے زندہ نوحے

 

یہ کس کے دل میں اتر رہا ہے عذاب آنکھوں کا اشک بن کر

یہ کس کے چہرے سے کر رہے ہیں خطاب آنکھوں کے زندہ نوحے

 

میں طاہرؔ ان کے لبوں کی مسکان چاہ کر بھی نہ لکھ سکوں گا

کہ ساتھ میرے رہے ہیں جن کی گلاب آنکھوں کے زندہ نوحے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ